حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 657 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 657

657 الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا (الانبیاء : 92) اس سوال کے جواب میں کہ اس امر کی تائید میں کہ مریم علیہا السلام نے ساری عمر نکاح نہیں کیا یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ قرآن میں آیا ہے وَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فرمایا محصنات تو قرآن شریف میں خود نکاح والی عورتوں پر بول گیا ہے وَ المُحْصَنَاتِ مِنَ النِّسَاءِ (النساء: 25) اور الَّتِي اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا کے معنے تو یہ ہیں کہ اس نے زنا سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا۔یہ کہاں سے نکلا کہ اس نے ساری عمر نکاح ہی نہیں کیا۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 291-290) نزول وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْأَنْعَامِ (الزمر :7) اور تمہارے لئے چار پائے اتارے۔۔۔۔ظاہر ہے کہ اترنے کا لفظ آسمان سے اترنے پر ہرگز دلالت نہیں کرتا اور اترنے کے ساتھ آسمان کا لفظ زیادہ کر لینا ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی بھوکے سے پوچھا جائے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ جواب دے کہ چار روٹیاں۔(ازالہ اوہام -رخ- جلد 3 صفحہ 245 حاشیہ ) نزول کے لفظ سے در حقیقت آسمان سے نازل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کھلے کھلےطور پر قرآن شریف میں آیا ہے قَدْ انْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولًا (الطلاق: 11 12) تو کیا اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمان سے ہی اترے تھے۔(ازالہ اوہام۔۔۔خ۔جلد 3 صفحہ 450) ایک علو تو اس رنگ میں ہوتا ہے جیسے کہ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِث (الضحی: 12 ) اور ایک علو شیطان کا ہوتا ہے جیسے اَبی وَ اسْتَكْبَرَ (البقرة: 35) اور اس کے بارے میں ہے امُ كُنتَ مِنَ الْعَالِينَ (ص:76) یہ اس سے سوال ہے کہ تیرا علو تکبر کے رنگ میں ہے یا واقعی ہے۔خدا تعالیٰ کے بندوں کے واسطے بھی اعلی کا لفظ آیا اور ہمیشہ آتا ہے جیسے إِنَّكَ أَنتَ الأغلى (طه: 69) مگر یہ تو انکسار سے ہوتا ہے اور وہ تکبر سے ملا ہوا ہوتا ہے۔عدل ( ملفوظات جلد دوم صفحه 404) الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّى فَعَدَلَكَ (الانفطار : 8)۔۔۔حسن تناسب اعضاء کا نام ہے۔جب تک یہ نہ ہو ملاحت نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے اسی لئے اپنی صفت فَسَوَّكَ فَعَدَلَكَ (الانفطار : 8) فرمائی ہے۔عدلک کے معنے تناسب کے ہیں کہ نسبتی اعتدال ہر جگہ ملحوظ رہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 201)