حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 651 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 651

651 قرآن مجید نے خود حدیث کو اپنا خادم مفسر قرار دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں بعض احکام ایسے طور پر بیان کئے ہیں کہ وہ بلاتفصیل صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی مسلمان مخاطب قرآن کی سمجھ میں نہ آتی اور نہ وہ دستورالعمل ٹھہرائی جاسکتی۔ایک حکم نماز ہی کولو قرآن میں اس کی نسبت صرف یہ ارشاد ہے اقيموا الصلوۃ اورکہیں اس کی تفسیر نہیں ہے کہ نماز کیونکر قائم کی جائے۔صاحب الحدیث آنحضرت صلعم ( بابی هورامی ) نے قولی و علی حدیثوں سے بتایا کہ نماز یوں پڑھی جاتی ہے تو وہ حکم قرآن سمجھ عمل میں آیا۔(احق مباحث لدھیانہ رخ- جلد 4 صفحہ 55) توفی کے معنے وفات دینے کے صرف اجتہادی طور پر ہم نے معلوم نہیں کیے بلکہ مشکوۃ کے باب الحشر میں بخاری اور مسلم کی حدیث جو ابن عباس سے ہے صریح اور صاف طور پر اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَی کی یہی تفسیر فرماتے ہیں کہ در حقیقت اس سے وفات ہی مراد ہے بلکہ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ سوال حضرت مسیح سے عالم برزخ میں ان کی وفات کے بعد کیا گیا تھا نہ یہ کہ قیامت میں کیا جائے گا پس جس آیت کی تفسیر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی کھول دیا پھر اگر کوئی تفسیر نبوی کو بھی سن کر شک میں رہے تو اس کے ایمان اور اسلام پر اگر افسوس اور تعجب نہ کریں تو اور کیا کریں دیکھو اس حدیث کو امام بخاری انہیں معنوں کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے اپنی صحیح کی کتاب التفسیر میں لایا ہے دیکھو صفحہ 665 بخاری۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 503) لغت عربی کے مفردات کا علم پس جبکہ ثابت ہو گیا کہ ہماری تربیت اور تکمیل کے لئے دور حمتوں کے دو چشمے قادر کریم نے جاری کر رکھے ہیں اور وہ اس کی دو صفتیں ہیں جو ہمارے درخت وجود کی آبپاشی کے لیے دورنگوں میں ظاہر ہوئے ہیں تو اب دیکھنا چاہیئے کہ وہ دو چشمے زبان عربی میں منعکس ہو کر کس کس نام سے پکارے گئے ہیں پس واضح ہو کہ پہلے قسم کی رحمت کے لحاظ سے زبان عربی میں خدا تعالیٰ کو رحمن کہتے ہیں اور دوسرے قسم کی رحمت کے لحاظ سے زبان موصوف میں اس کا نام رحیم ہے۔اسی خوبی کے دکھلانے کے لیے ہم عربی خطبہ کے پہلی ہی سطر میں رحمان کا لفظ لائے ہیں۔اب اس نمونہ سے دیکھ لو کہ چونکہ یہ رحم کی صفت اپنی ابتدائے تقسیم کے لحاظ سے الہی قانون قدرت کے دو قسم پر مشتمل تھی لہذا اس کے لئے زبان عربی میں دو مفرد لفظ موجود ہیں اور یہ قاعدہ طالب حق کے لیے نہایت مفید ہوگا کہ ہمیشہ عربی کے باریک فرقوں کو پہچاننے کے لیے صفات اور افعال الہیہ کو جو صحیفہ قدرت میں نمایاں ہیں معیار قرار دیا جائے اور ان کے اقسام کو جو قانون قدرت سے ظاہر ہوں عربی کے مفردات میں ڈھونڈا جائے اور جہاں کہیں عربی کے ایسے مترادف لفظوں کا فرق ظاہر کرنا مقصود ہو جو صفات یا افعال الہی کے متعلق ہیں تو صفات یا افعال الہی کی اس تقسیم کی طرف متوجہ ہوں جو نظام قانون قدرت دکھلا رہا ہے کیونکہ عربی کی اصل غرض اللہیات کی خدمت ہے جیسا کہ انسان کے وجود کی اصل غرض معرفت باری تعالیٰ ہے اور ہر ایک چیز جس غرض کے لیے پیدا کی گئی ہے اسی غرض کو سامنے رکھ کر اس کے عقدے کھل سکتے ہیں اور اس کے جو ہر معلوم ہو سکتے ہیں۔من الرحمن - ر-خ- جلد 9 صفحہ 148-149 )