حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 650 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 650

650 قرآن کا محاورہ اب چونکہ یہ فرق حقیقت اور مجاز کا صاف طور پر بیان ہو چکا تو جس شخص نے قرآن کریم پر اول سے آخر تک نظر ڈالی ہوگی اور جہاں جہاں توفی کا لفظ موجود ہے بنظر غور دیکھا ہوگا وہ ایمان ہمارے بیان کی تائید میں شہادت دے سکتا ہے چنانچہ بطور نمونہ دیکھنا چاہئے کہ یہ آیات (۱) اما نـریـنـک بــعــض الـذي نـعـدهـم او نتوفینک (۲) توفنی مسلما(۳) ومنكم من يتوفى (٤) توفهم الملائكة (۵) يتوفون منكم (۲) توفته رسلنا (۷) رسلنا يتوفونهم (۸) توفنا مسلمين (۹) وتوفنا مع الابرار ( ١٠ ) ثم یتو فیکم کیسی صریح اور صاف طور پر موت کے معنوں میں استعمال کی گئی۔کیا قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت بھی ہے کہ ان آیات کی طرح مجرد توفی کا لفظ لکھنے سے اس سے کوئی اور معنے مراد لیے گئے ہوں موت مراد نہ لی گئی ہو بلاشبہ قطعی اور یقینی طور پر اول سے آخر تک قرآنی محاورہ یہی ثابت ہے کہ ہر جگہ در حقیقت توفی کے لفظ سے موت ہی مراد ہے تو پھر متنازعہ فیہ دو آیتوں کی نسبت جو انِي مُتَوَقِيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی۔ہیں اپنے دل سے کوئی معنے مخالف عام محاورہ قرآن کے گھڑنا اگر الحاد اور تحریف نہیں تو اور کیا ہے۔(ازالہ اوہام - ر- خ - جلد 3 صفحہ 270) لغت قرآن اور حدیث شریف اول یہ کہ وہ اسلام کے مقابل پر ان بیہودہ روایات اور بے اصل حکایات سے مجتنب رہیں جو ہماری مسلم اور مقبول کتابوں میں موجود نہیں اور ہمارے عقیدہ میں داخل نہیں اور نیز قرآن کے معنی اپنے طرف سے نہ گھڑ لیا کریں بلکہ وہی معنی کریں جو تو اتر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور پادری صاحبان اگر چہ انجیل کے معنے کرنے کے وقت ہر یک بے قیدی کے مجاز ہوں۔مگر ہم مجاز نہیں ہیں اور انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے معصیت عظیمہ ہے۔قرآن کی کسی آیت کے معنی اگر کر میں تو اس طور سے کرنے چاہئے کہ دوسری قرآنی آئتیں ان معنوں کی موید اور مفسر ہوں اختلاف اور تناقض پیدا نہ ہو کیونکہ قرآن کی بعض آیتیں بعض کے لئے بطور تفسیر کے ہیں اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی انہیں معنوں کی مفسر ہو کیونکہ جس پاک اور کامل نبی پر قرآن نازل ہوا وہ سب سے بہتر قرآن شریف کے معنی جانتا ہے۔غرض اتم اور اکمل طریق معنے کرنے کا تو یہ ہے لیکن اگر کسی آیت کے بارے میں حدیث صحیح مرفوع متصل نہ مل سکے تو ادنے درجہ استدلال کا یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کے معنی دوسری آیات بینات سے کئے جاویں۔لیکن ہرگز یہ درست نہیں ہوگا کہ بغیر ان دونوں قسم کے التزام کے اپنے ہی خیال اور رائے سے معنی کریں کاش اگر پادری عمادالدین وغیرہ اس طریق کا التزام کرتے تو نہ آپ ہلاک ہوتے اور نہ دوسروں کی ہلاکت کا موجب ٹھہرتے۔(آریہ دھرم - ر - خ- جلد 10 صفحہ 81 80 حاشیہ) یولس : ۲۴۷ یوسف : ۱۰۲ ۳ الج: ۶ ۴ النساء: ۹۸ ۵ البقرة : ۲۴۱ ، الانعام: ۶۲ کے الاعراف: ۳۸ الاعراف: ۱۲۷ ال عمران : ۱۹۴ ما النحل: اے