حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 39 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 39

39 قرآن میں بیان شده معجزات و خوارق دوبارہ دکھا کر جماعت میں سے ایک ہمارے مکرم دوست نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے کے متعلق دریافت کیا کہ آریہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ان لوگوں کے اعتراض کی اصل جڑ معجزات اور خوارق پر نکتہ چینی کرنا ہے۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ دعوی کرتے ہیں اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں مبعوث کیا ہے کہ قرآن کریم میں جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء کے مذکور ہوئے ہیں ان کو خود دکھا کر قرآن کی حقانیت کا ثبوت دیں ہم دعوی کرتے ہیں کہ اگر دنیا کی کوئی قوم ہمیں آگ میں ڈالے یا کسی اور خطرناک عذاب اور مصیبت میں مبتلا کرنا چاہے تو خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق ضرور ہمیں محفوظ رکھے گا۔بعد اس کے خدا تعالیٰ کے تصرفات اور اپنے بندوں کو عجیب طرح ہلاکت سے نجات دینے کی مثالیں دیتے رہے اور اسی کے ضمن میں فرمایا : آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے پس اسے کوئی مخالف آزما لے اور آگ جلا کر ہمیں اس میں ڈال دے آگ ہرگز ہم پر کام نہ کرے گی اور وہ ضرور ہمیں اپنے وعدہ کے موافق بچالے گا، لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم خود آگ میں کودتے پھریں۔یہ طریق انبیاء کا نہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمُ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: 196) پس ہم خود آگ میں دیدہ دانستہ نہیں پڑتے۔بلکہ یہ حفاظت کا وعدہ دشمنوں کے مقابلہ پر ہے کہ اگر وہ آگ میں ہمیں جلا نا چاہیں تو ہم ہر گز نہ جلیں گے۔اس لئے میرا ایمان تو یہ ہے کہ ہمیں تکلف اور تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسے خدا کے باطنی تصرفات ہیں ویسے ہی ظاہری بھی ہم مانتے ہیں بلکہ اسی لئے خدا نے اول ہی سے الہام کر دیا ہوا ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 480-479)