حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 645
645 دوسری فصل لغات قرآن زبان کا حقیقی مالک خدا تعالیٰ اور اس کا رسول ہے ( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 162) وحى الى يعنى عَفَتِ الذِيَارُ مَحِلُّهَا وَ مَقَامُهَا یہ وہ کلام ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے خدا تعالیٰ نے لبید بن ربیعہ العامری کے دل میں ڈالا تھا جو اس کے اس قصیدہ کا اول مصرع ہے جو سبعہ معلقہ کا چوتھا قصیدہ ہے اور لبید نے زمانہ اسلام کا پایا تھا اور مشرف باسلام ہو گیا تھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم میں داخل تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کے کلام کو یہ عزت دی کہ جو آخری زمانہ کی نسبت ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ ایسی ایسی تباہیاں ہوں گی جن سے ایک ملک تباہ ہو گا وہ اسی کے مصرع کے الفاظ میں بطور وحی فرمائی گئی جو اس کے منہ سے نکلی تھی۔پس یہ تعجب سخت نادانی ہے کہ ایک کلام جو مسلمان کے منہ سے نکلا ہے وہ کیوں وحی الہی میں داخل ہو ا کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں وہ کلام جو عبد اللہ بن ابی سرح کے منہ سے نکلا تھا یعنی فَتَبَارَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔(المومنون: 15) وہی قرآن شریف میں نازل ہو ا جس کی وجہ سے عبداللہ بن ابی سرح مرتد ہو کر مکہ کی طرف بھاگ گیا۔پس جبکہ خدا تعالیٰ کے کلام کا ایک مرتد کے کلام سے تو ارد ہوا تو اس سے کیوں تعجب کرنا چاہیئے کہ لبید جیسے صحابی بزرگوار کے کلام سے اس کے کلام کا توار د ہو جائے خدا تعالیٰ جیسے ہر ایک چیز کا وارث ہے ہر ایک پاک کلام کا بھی وارث ہے ہر ایک پاک کلام اسی کی توفیق سے منہ سے نکلتا ہے۔پس اگر ایسا کلام بطور وحی نازل ہو جائے تو اس بارے میں وہی شخص شک کرے گا جس کو اسلام میں شک ہو۔ثم اور ثنا الكتب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم و منهم سابق بالخيرات باذن الله ذلك هو الفضل الكبير (الفاطر: 33) ہمین ماننا پڑا کہ اس جگہ ظالم کا لفظ کسی مذموم معنی کے لئے استعمال نہیں ہوا بلکہ ایک ایسے محمود اور قابل تعریف معنوں کے لئے استعمال ہوا ہے جو درجہ سابق بالخیرات سے حصہ لینے کے مستحق اور اس درجہ فاضلہ کے چھوٹے بھائی ہیں اور وہ معنے بجز اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ ظالم سے مراد اس قسم کے لوگ رکھے جائیں کہ جو خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفس مخالف پر جبر اور اکراہ کرتے ہیں اور نفس کے جذبات کم کرنے کے لئے دن رات مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں کیونکہ یہ تو لغت کی رو سے ثابت ہے کہ ظالم کا لفظ بغیر کسی اور لحاظ کے فقط کم کرنے کے لئے بھی آیا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام میں فرماتا ہے وَلَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا (الكهف : 34) أَى وَلَمْ تَنْقُصُ اور خدا تعالیٰ کی راہ میں نفس کے جذبات کو کم کرنا بلاشبہ ان معنوں کی رو سے ایک ظلم ہے ماسوا اس کے ہم ان کتب لغت کو جو صد ہا برس قرآن کریم کے بعد اپنے زمانہ کے محاورات کے موافق طیار ہوئی ہیں قرآن مجید کا حکم نہیں ٹھہرا سکتے۔قرآن کریم اپنی لغات کے لئے آپ متکفل ہے اور اس کی بعض آیات بعض دوسری آیات کی شرح کرتی ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام۔رخ۔جلد 5 صفحہ 135 تا138 ) مقتصد