حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 644
644 ترجمہ: اور جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ خدا رسیدہ اور فقراء اور عارفوں کے زمرے میں شامل ہے لیکن صورت حال یہ ہو کہ وہ ادیبوں کی طرح اس زبان (عربی) سے نا آشنا ہے تو ایسے شخص کا فقر وہ فقر نہیں جو حضرت سید الکونین کا فقر تھا۔بلکہ وہ تو دونوں جہانوں میں روسیاہ ہے۔(اے مخاطب!) تو میرے (اس) بیان پر تعجب نہ کر۔اور قبل از عرفان غضبناک نہ ہو۔کیونکہ ایسا شخص جو فرقانِ حمید سے محبت کرنے کا مدعی ہو۔اس کا ذہن اس زبان سے زنگ خوردہ کیسے ہوسکتا ہے۔اور محبت اور دلی اشتیاق کے دعووں کے باوجود وہ اس زبان کی تحصیل سے کیسے کو تا ہی کر سکتا ہے۔اور پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے شخص کے دل پر رحمان خدا کی تجلی کا ظہور نہ ہو۔اور اللہ اسے بطیب خاطر اپنے نبی کی زبان نہ سکھائے۔مزید براں یہ بھی تو ہے کہ یہ زبان حب رسول اور حب فرقان کے لئے ایک معیار ہے۔پس جو شخص عربی (زبان) سے رسول کریم اور فرقان حمید سے محبت کرنے کی وجہ سے محبت کرتا ہے تو وہ اس ( زبان ) سے محبت کرتا ہے۔اور جس نے اس ( زبان ) سے بغض رکھا تو اس نے رسول کریم اور فرقان حمید سے بغض رکھنے کی وجہ سے اس سے بغض رکھا۔کیونکہ پیار کرنے والے علامات سے شناخت کئے جاتے ہیں۔اور محبت کا ادنی ترین درجہ وہ ہے جو تجھے اس حد تک مشابہت پر آمادہ کرے کہ تو محبوب کے تمام طور طریقوں کو مقدم کرنے لگے۔اور انہیں محبوب بنا لے۔ہاں البتہ وہ شخص جو اس ذوق اور چاشنی سے نا آشنا ہے تو وہ عاشقوں کے مشرب میں کافروں کے زمرے میں شمار ہوگا۔اور جس شخص نے محبت و وفا کے تقاضے کے مطابق فرقان حمید اور سید نا خاتم الانبیاء سے محبت کی تو میں ایسے شخص کے متعلق نہیں سمجھتا کہ وہ عربی (زبان) سے جاہل ہوگا۔نہیں، بالکل نہیں بلکہ اس کی محبت اسے کمال کے اعلیٰ مراتب تک لے جائے گی۔بلکہ سخن وری میں وہ ہر آگے بڑھنے والے شخص سے آگے بڑھ جائے گا۔اور اس کی گفتار ایک در تاباں کی طرح ہو جائے گی اور اس کے کلام کو ایک عجیب خوشبو سے معطر کر دے گی اور اس میں گونا گوں پاکیزگی پیدا کر دے گی۔پس اے مخاطب ! تو محبت کرنے والوں کی طرح غور و فکر کر۔اگر محبت نہ ہوتی تو مجھے اس زبان ( عربی ) کا علم نہ دیا جاتا۔وہ محبت ہی تھی جس کیوجہ سے مجھے یہ علم حاصل ہوا۔پس یہ ارحم الراحمین کی طرف سے۔میری محبت کا ایک نشان ہے۔اللہ کی اس عطا کردہ نعمت پر الحمدللہ۔اور وہ سب سے بہتر انعام کرنے والا ہے۔وينصر من يشاء ويكفل الصالحين۔فيندمل جريحهم۔و يستريح طليحهم۔ولاتركد ريحهم۔ولا تكمد مصابيحهم۔و منصوره يملا من علم الفرقان و لسان العرب۔كما يملا الدلوالى عقد الكرب۔و انه اناو لافخر و ان دعائى يذيب الصخر۔و ان يومى هذا يوم الفتح ويوم الضياء بعد الليلة الليلاء۔(اعجاز مسیح -ر-خ- جلد 18 صفحہ 60) ترجمہ: اور وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور نیک لوگوں کی کفالت کرتا ہے۔نیز وہ ان کے زخم مندمل کرتا اوران کے در ماندوں کو آرام پہنچاتا ہے۔نہ ان کی (شہرت کی ) ہوا ٹھہرتی ہے اور نہ ان کے چراغ گل ہوتے ہیں۔اس کا نصرت یافتہ علم قرآن اور عربی زبان بعینہ اسی طرح پر کیا جاتا ہے۔جیسے ایک ( چرخی ) ڈول کو ڈوری کے بندھن تک بھر دیا جائے۔اور ( یا درکھو کہ ) وہ خدا کا تائید یافتہ (بندہ ) میں ہی ہوں لیکن بایں ہمہ کوئی فخر نہیں۔میری دعا چٹان کو موم کر دیتی ہے اور میرا یہ دن فتح کا دن ہے۔اور میں شب تار کے بعد ایک روزہ مہر تاباں ہوں۔