حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 623
623 اور سب سے افضل عبادت یہ ہے کہ انسان التزام کے ساتھ پانچوں نمازیں ان کے اول وقت پر ادا کرنے اور فرض اور سنتوں کی ادائیگی پر مداومت رکھتا ہو اور حضور قلب ذوق شوق اور عبادت کی برکات کے حصول میں پوری طرح کوشاں رہے۔أتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَ اَقِمِ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَ لَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ وَ اللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ۔(العنكبوت:46) نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہہ بالعدم قرار دے کر جور بوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اس کا فیضان اور پر تو اس پر نہیں پڑتا اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اسے انقطاع تام ہو جاتا ہے اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام صلوۃ ہے جو سیات کو بھسم کر جاتی ہے اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستہ کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے اور ہر قسم کے خش و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خار و خس سے جو اس کی راہ میں ہوتے ہیں آگاہ کر کے بچاتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جبکہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں نہیں۔نہیں اس کے شمع دان دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلیل کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے پھر گناہ کا خیال اسے آ کیونکرسکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔فحشاء کی طرف اس کی نظر اُٹھ ہی نہیں سکتی۔غرض اسے ایسی لذت ایسا سرور حاصل ہوتا ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اسے کیونکر بیان کروں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 105) کمال عبادت میرے دل میں یہ بات آئی ہے کہ الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدین سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے اندر لے یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ساری صفتیں سزاوار ہیں جو رَبِّ الْعَلَمِينَ ہے یعنی ہر عالم میں نطفہ میں مضغہ وغیرہ سارے عالموں میں غرض ہر عالم میں پھر رحمن ہے رحیم ہے اور مَالِكِ يَوْمِ الدِین ہے۔اب اِيَّاكَ نَعْبُدُ جو کہتا ہے تو گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت رحمانیت رحیمیت مالکیت صفات کا پر تو انسان کو اپنے اندر لینا چاہیے کمال عبد انسان کا یہ ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے جب تک اس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے۔اس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الہی کی طرف اسے لیے جاتا ہے۔اور وہ حالت اس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل : 51) کی ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحه 393)