حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 622 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 622

622 مسلمانوں کا زوال ترک نماز سے ہے اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اسے دل کی تسکین آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہوکر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔وہ زمانہ جس میں نماز سنوار کر پڑھی جاتی تھی غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیر پا کر دیا تھا۔جب سے اسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے ہیں۔درد دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس امر کوحل اور آسان کر دیا ہوا ہوتا ہے۔نماز میں کیا ہوتا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے التجا کے ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اس کی عرض کو اچھی طرح سنتا ہے۔پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جوسنتا تھا وہ بولتا ہے اور گذارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے۔نمازی کا یہی حال ہے خدا کے آگے سر بیجھ درہتا ہے اور خدا کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے پھر آخر کچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب دیکر تسلی دیتا ہے۔بھلا یہ بجر حقیقی نماز کے ممکن ہے؟ ہر گز نہیں۔حقیقی نماز إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِي ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 189-190) اعلم ان حقيقة العبادة التي يقبلها المولى بامتنانه هي التذلل التام برؤيت عظمته وعلوشانه۔والثناء عليه بمشا هدة مننه وانواع احسانه و ایثاره علی کل شئ بمحبت حضرته و تصور محامده وجماله ولمعانه و تطهيرا لجنان من وساوس الجنت نظرا الى جنانه۔و من افضل العبادات ان يكون الانسان محافظا على الصلوت الخمس فى اوائل اوقاتها۔و ان يجهد للحضور والذوق و الشوق وتحصيل بركاتها۔مواظبا على اداء مفروضاتها و مسنوناتها۔اعجاز مسیح - ر - خ - جلد 18 صفحہ 166-165) واضح ہو کہ اس عبادت کی حقیقت جسے اللہ تعالیٰ اپنے کرم و احسان سے قبول فرماتا ہے ( وہ درحقیقت چند پر مشتمل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی بلند و بالاشان کو دیکھ کر مکمل فروتنی اختیار کرنا نیز اس کی مہر بانیاں اور قسم قسم کے احسان دیکھ کر اس کی حمد و ثنا کرنا اس کی ذات سے محبت رکھتے ہوئے اور اس کی خوبیوں جمال اور نور کا تصور کرتے ہوئے اسے ہر چیز پر ترجیح دینا اور اس کی جنت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے دل کو شیطانوں کے وسوسوں امور ہے سے پاک کرنا ہے۔