حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 603
603 نبوت جاری ہے سورہ فاتحہ میں تمہیں دعا سکھلائی گئی ہے۔یعنی یہ دعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ پس جبکہ خدا تمہیں یہ تاکید کرتا ہے۔کہ پنج وقت یہ دعا کرو کہ وہ نعمتیں جو نبیوں اور رسولوں کے پاس ہیں وہ تمہیں بھی ملیں۔پس تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ کے وہ نعمتیں کیونکر پاسکتے ہو۔لہذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لیے خدا کے انبیاء وقتا بعد وقت آتے رہیں۔جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔(لیکچر سیالکوٹ۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 227) كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران: 111) اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے۔اور اس میں تو نحوست ہے۔اور نبی کی بہتک شان ہوتی ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ جو کہا کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ یہ جھوٹ تھا۔نعوذ باللہ۔اگر یہ معنے کیے جاویں کہ آئیندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیر الامتہ کی بجائے شر الامم ہوئی یہ امت۔جب اس کو اللہ تعالیٰ سے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی نصیب نہ ہوا تو یہ تو كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ (اعراف:180) ہوئی اور بہائم سیرت اسے کہنا چاہئے نہ کہ خیر الام۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 249) انبیاء کی اطاعت قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِلَ وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ وَ إِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَ مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلغُ الْمُبِينُ۔(النور:55) کہ خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور یہ مسلم اور بدیہی امر ہے کہ خدا کے احکام سے تخلف کرنا معصیت اور موجب دخول جہنم ہے اور اس مقام میں جس طرح خدا اپنی اطاعت کے لئے حکم فرماتا ہے ایسا ہی رسول کی اطاعت کے لئے حکم فرماتا ہے۔سو جو شخص اس کے حکم سے منہ پھیرتا ہے وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس (حقیقۃ الوحی۔رخ۔جلد 22 صفحہ 128 ) کی سزا جہنم ہے۔انبیاء علیہم السلام کے گلہ کرنے سے بھی انسان کا فر ہو جاتا ہے۔چونکہ وہ ان تعلقات سے محض نا آشنا ہوتا ہے جو انبیاء ورسل اور اللہ تعالیٰ میں ہوتے ہیں اس لیے کسی ایسے امر کو جو ہماری سمجھ اور دانش سے بالا تر اور بالا تر ہے اپنی عقل کے پیمانہ سے ناپنا صریح حماقت ہے۔مثلاً آدم علیہ السلام کا گلہ کرنے لگے کہ انہوں نے درخت ممنوع کا پھل کھایا۔یا عَبَسَ وَ تَوَلَّی کو لے بیٹھے۔ایسی حرکت آداب الرسل کے خلاف ہے اور کفر کی حد تک پہنچا دیتی ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 632)