حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 602
602 إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: 5) گل انسانوں کے کمالات بہینت مجموعی ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہیں اور اسی لیے آپ کل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور رحمۃ للعالمین کہلائے اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: 5)۔میں بھی ایسی مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے۔اسی صورت میں عظمت اخلاق محمدی کی نسبت غور کر سکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے۔یہ ایک مسلم بات ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت غائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔جیسے کتاب کے جب کل مطالب بیان ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علت غائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرختم ہوئی اور یہی ختم نبوت کے معنے ہیں۔کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلا آیا ہے اور کامل انسان پر آ کر اس کا خاتمہ ہوگیا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 35) إِنَّ اللَّهَ وَ مَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57) دنیا میں کروڑہا ایسے پاک فطرت گذرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مرد خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا۔ان قوموں کے بزرگوں کا ذکر تو جانے دو جن کا حال قرآن شریف میں تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا صرف ہم ان نبیوں کی نسبت اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے جیسے حضرت موسیٰ حضرت داؤؤ حضرت عیسی علیہم السلام اور دوسرے انبیاء سو ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نہ آتے اور قرآن شریف نازل نہ ہوتا اور وہ برکات ہم چشم خود نہ دیکھتے جو ہم نے دیکھ لئے تو ان تمام گذشتہ انبیاء کا صدق ہم پر مشتبہ رہ جاتا کیونکہ صرف قصوں سے کوئی حقیقت حاصل نہیں ہو سکتی اور ممکن ہے کہ وہ قصے صحیح نہ ہوں اور ممکن ہے کہ وہ تمام معجزات جوان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ سب مبالغات ہوں کیونکہ اب ان کا نام ونشان نہیں بلکہ ان گذشتہ کتابوں سے تو خدا کا پتہ ہی نہیں لگتا اور یقیناً سمجھ نہیں سکتے کہ خدا بھی انسان سے ہمکلام ہوتا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے یہ سب قصے حقیقت کے رنگ میں آگئے اب ہم نہ قال کے طور پر بلکہ حال کے طور پر اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ مکالمہ الہیہ کیا چیز ہوتا ہے اور خدا کے نشان کس طرح ظاہر ہوتے ہیں اور کس طرح دعائیں قبول ہو جاتی ہیں اور یہ سب کچھ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے پایا اور جو کچھ قصوں کے طور پر غیر قو میں بیان کرتی ہیں وہ سب کچھ ہم نے دیکھ لیا پس ہم نے ایک ایسے نبی کا دامن پکڑا ہے جو خدا نما ہے۔کسی نے یہ شعر بہت ہی اچھا کہا ہے۔محمد عربی بادشاہ دوسرا کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پر کہتا ہوں کہ اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدادانی یہ ہر چشمہ معرفت - ر- خ - جلد 23 صفحہ 302-301)