حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 576
576 خوب یاد رکھو کہ یہ امہات الصفات روحانی طور پر خدا نما تصویر ہیں کہ ان پر غور کرتے ہی معا خدا سامنے ہو جاتا ہے اور روح ایک لذت کے ساتھ اچھل کر اس کے سامنے سر بسجو د ہو جاتی ہے چنانچہ الحمد للہ سے جو شروع کیا گیا تھا تو غائب کی صورت میں ذکر کیا ہے لیکن ان صفات اربعہ کے بیان کے بعد معاً صورت بیان تبدیل ہوگئی ہے کیونکہ ان صفات نے خدا کو سامنے حاضر کر دیا ہے اس لیے حق تھا اور فصاحت کا تقاضا تھا کہ اب غائب نہ رہے بلکہ حاضر کی صورت اختیار کی جاوے پس اس دائرہ کی تکمیل کے تقاضا نے مخاطب کی طرف منہ پھیرا اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہا۔( ملفوظات جلد اول صفحه 127) خدا تعالیٰ نے تمام اجرام سماوی وارضی پیدا کر کے پھر اپنے وجود کو وراء الوراء مقام میں مخفی کیا جس کا نام عرش ہے اور یہ ایسا نہاں در نہاں مقام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی چار صفات ظہور پذیر نہ ہوتیں جو سورۃ فاتحہ کی پہلی آیات میں ہی درج ہیں تو اس کے وجود کا کچھ پتہ نہ لگتا یعنی ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت۔مالک یوم الجزاء ہونا سو یہ چاروں صفات استعارہ کے رنگ میں چار فرشتے خدا کی کلام میں قرار دیئے گئے ہیں جو اس کے عرش کو اٹھا رہے ہیں یعنی اس وراء الوراء مقام میں جو خدا ہے اس مخفی مقام سے اس کو دکھلا رہے ہیں اور نہ خدا کی شناخت کے لئے کوئی ذریعہ نہ تھا۔اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتی چشمه معرفت - ر-خ- جلد 23 صفحہ 279 حاشیہ ) ثم اعلم ان الله تعالى صفات ذاتية ناشئة من اقتضاء ذاته و عليها مدار العالمين كلها و هي اربع ربوبية و رحمانية و رحيمية و ما لكية كما اشار الله تعالى اليها في هذه السورة وقال رب الـعـالـمـيـن الـرحـمـن الـرحيـم ملك يوم الدين فهذه الصفات الذاتية سابقة على كل شئ و محيطة بكل شئ و منها وجود الاشياء و استعدادها و قابلیتها و وصولها الى كمالاتها واما صفة الغضب فليست ذاتية الله تعالى بل هى ناشئة من عدم قابلية بعض الاعيان للكمال المطلق و کذالک صفة الاضلال لا يبدو الا بعد زيغ الضالين۔(کرامات الصادقین۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 129-128 ) (ترجمہ :۔پھر واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات ذاتی ہیں جو اس کی ذات کے تقاضا سے پیدا ہونے والی ہیں اور انہیں پر سب جہانوں کا مدار ہے اور وہ چار ہیں۔ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت اور مالکیت۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے۔رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔پس یہ ذاتی صفات ہر چیز پر سبقت رکھتی ہیں اور ہر چیز پر محیط ہیں تمام اشیاء کا وجود ان کی استعدادیں ان کی قابلیت اور ان کا اپنے کمالات کو پہنچنا انہیں (صفات) کے ذریعہ سے ہے لیکن غضب کی صفت خدا کی ذاتی (صفت) نہیں ہے بلکہ وہ بعض موجودات کے مطلقاً کمال قبول نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح گمراہ ٹھہرانے کی صفت کا ظہور بھی گمراہ ہونے والوں میں کبھی پیدا ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔