حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 575
575 توحید کی اقسام توحید تین قسم کی ہے ایک توحید علمی کہ جو صحیح عقائد سے حاصل ہوتی ہے۔دوسری توحید عملی کہ جو قویٰ اخلاقی کو خدا کے راستہ میں کرنے سے یعنی فنافی اخلاق اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔تیسری توحید حالی جو اپنے ہی نفس کا حال اچھا بنانے سے حاصل ہوتی ہے یعنی نفس کو کمال تزکیہ کے مرتبہ تک پہنچانا اور غیر اللہ سے صحن قلب کو بالکل خالی کرنا۔اور نابود اور بے نمود ہوجانا یہ تو حید بوجہ کامل تب میسر آتی ہے کہ جب جذ بہ الہی انسان کو پکڑے اور بالکل اپنے نفس سے نابود کر دے اور بحجر فضل الہی کے نہ یہ علم سے حاصل ہو سکتی ہے اور نہ عمل سے۔اسی کے لیے عابدین مخلصین کی زبان پر نعرہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے۔(تفسیر حضرت اقدس مسیح موعود جلد 1 صفحہ 209 ) (اشکم 24 ستمبر 1905 صفحہ 4) توحید کے مراتب توحید تین درجہ پر منقسم ہے درجہ اول عوام کے لئے یعنے ان کے لئے جو خدا تعالیٰ کے غضب سے نجات پانا چاہتے ہیں۔دوسرا درجہ خواص کے لئے یعنے ان کے لئے جو عوام کی نسبت زیادہ تر قرب الہی کے ساتھ خصوصیت پیدا کرنی چاہتے ہیں۔اور تیسرا درجہ خواص الخواص کیلئے جو قرب کے کمال تک پہنچنا چاہتے ہیں۔اوّل مرتبہ تو حید کا تو یہی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش نہ کی جائے اور ہر ایک چیز جو محدود اور مخلوق معلوم ہوتی ہے خواہ زمین پر خواہ آسمان پر اس کی پرستش سے کنارہ کیا جائے۔دوسرا مرتبہ تو حید کا یہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے تمام کاروبار میں موثر حقیقی خدا تعالے کو سمجھا جائے اور اسباب پر اتنا زور نہ دیا جائے جس سے وہ خدا تعالیٰ کے شریک ٹھہر جائیں۔مثلاً یہ کہنا کہ زید نہ ہوتا تو میرا یہ نقصان ہوتا اور بکر نہ ہوتا تو میں تباہ ہو جاتا۔اگر یہ کلمات اس نیت سے کہے جائیں کہ جس سے حقیقی طور پر زید و بکر کو کچھ چیز سمجھا جائے تو یہ بھی شرک ہے۔تیسری قسم توحید کی یہ ہے کہ خدا تعالے کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھانا اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کرنا۔( کتاب البریہ۔ر۔خ - جلد 13 صفحہ 84-83) صفات باری تعالیٰ خدا نما ہیں صفات باری تعالی الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى (طه: 6 ) خدارحمان ہے جس نے عرش پر قرار پکڑا۔اس قرار پکڑنے سے یہ مطلب ہے کہ اگر چہ اس نے انسان کو پیدا کر کے بہت سا قرب اپنا اس کو دیا مگر یہ تمام تجلیات مختص الزمان ہیں یعنی تمام کشمیری تجلیات اس کی کسی خاص وقت میں ہیں جو پہلے نہیں تھیں مگر از لی طور پر قرارگاہ خدا تعالیٰ کی عرش ہے جو تنزیہ کا مقام ہے کیونکہ جو فانی چیزوں سے تعلق کر کے تشبیہ کا مقام پیدا ہوتا ہے وہ خدا کی قرار گاہ نہیں کہلا سکتا وجہ یہ کہ وہ معرض زوال میں ہے اور ہر ایک وقت میں زوال اس کے سر پر ہے بلکہ خدا کی قرارگاہ وہ مقام ہے جو فنا اور زوال سے پاک ہے پس وہ مقام عرش ہے۔چشمه معرفت - خ- جلد 23 صفحہ 277,278)