حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 554 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 554

554 طلاق الطَّلَاقَ مَرَّتَنِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيْحُ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأخُذُوا مِمَّا اتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِه۔۔۔۔۔اية (البقرة: 230) موجبات طلاق عورت کا جوڑا اپنے خاوند سے پاک دامنی اور فرماں برداری اور باہم رضامندی پر موقوف ہے اور اگران تین باتوں میں سے کسی ایک بات میں بھی فرق آ جاوے تو پھر یہ جوڑ قائم رہنا محالات میں سے ہو جاتا ہے انسان کی بیوی اس کے اعضاء کی طرح ہے پس اگر کوئی عضو سر گل جائے یا ہڈی ایسی ٹوٹ جائے کہ قابل پیوند نہ ہو تو پھر بجز کاٹنے کے اور کیا علاج ہے اپنے عضو کو اپنے ہاتھ سے کانا کوئی نہیں چاہتا کوئی بڑی ہی مصیبت پڑتی ہے تب کا ٹا جاتا ہے پس جس حکیم مطلق نے انسان کے مصالح کے لیے نکاح تجویز کیا ہے اور چاہا ہے کہ مرد اور عورت ایک ہو جائیں اسی نے مفاسد ظاہر ہونے کے وقت اجازت دی ہے کہ اگر آرام اس میں متصور ہو کہ کرم خوردہ دانت یا سڑے ہوئے عضو یا ٹوٹی ہوئی ہڈی کی طرح موذی کو علیحدہ کر دیا جائے تو اسی طرح کار بند ہو کر اپنے تئیں فوق الطاقت آفت سے بچالیں کیونکہ جس جوڑ سے وہ فواید مترتب نہیں ہو سکتے کہ جو اس جوڑ کی علت غائی ہیں بلکہ ان کی ضد پیدا ہوتی ہے تو وہ جوڑ در حقیقت جوڑ نہیں ہے۔آریہ دھرم - ر-خ- جلد 10 صفحہ 66-65) الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا ط الله اَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ، فَالصَّلِحْتُ قِنِتَتُ حَفِظَتْ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ الَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ وَ أَطَعْنَكُمْ فَلا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا۔(النساء : 35) * یہ بھی عورتوں میں خراب عادت ہے کہ وہ بات بات میں مردوں کی نافرمانی کرتی ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں۔اور ناراض ہونے کی حالت میں بہت کچھ بُرا بھلا ان کے حق میں کہہ دیتی ہیں۔ایسی عورتیں اللہ اور رسول کے نزدیک لعنتی ہیں۔ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے۔کہ کوئی عورت نیک نہیں ہوسکتی۔جب تک پوری پوری اپنے خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے۔اور دلی محبت سے اس کی تعظیم بجانہ لائے۔اور پس پشت یعنی اس کے پیچھے اس کی خیر خواہ نہ ہو اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ