حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 473 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 473

473 وفات مسیح آیات قرآنیہ کے اعتبار سے وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَ أَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَ أُمِّيَ الهَيْنِ مِنْ دُونِ اللهِ ط قَالَ سُبُحْنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَالَيْسَ لِي بِحَقِّ اِنْ كُنْتُ قُلْتَهُ فَقَدْ عَلِمُتَهُ طَ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ۔مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا اَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَ رَبَّكُمْ وَ كُنتُ عَلَيْهِمُ شَهِيدًا مَّادُمُتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ۔(المائده: 118-117) جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔تمام قرآن شریف میں توفی کے معنی یہ ہیں کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔قُلْ يَتَوَفَّكُمُ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ۔(السجدة:12) اور پھر فرماتا ہے۔وَلَكِنْ أَعْبُدُ اللهَ الَّذِي يَتَوَفَّكُمُ۔(یونس :105) اور پھر فرماتا ہے۔حَتَّى يَتَوَفَّهُنَّ الْمَوْتُ۔(النساء : 16) اور پھر فرماتا ہے۔حَتَّى إِذَا جَاءَ تُهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ۔(الاعراف:38) اور پھر فرماتا ہے۔تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا (الانعام (62) ایسا ہی قرآن شریف کے تئیس مقام میں برابر توفی کے معنی امانت اور قبض روح ہے لیکن افسوس کہ بعض علماء نے محض الحاد اور تحریف کی رو سے اس جگہ تَوَفَّيْتَنِی سے مراد رَفَعْتَنِی لیا ہے اور اس طرف ذرہ خیال نہیں کیا کہ یہ معنے نہ صرف لغت کے مخالف بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہیں پس یہی تو الحاد ہے کہ جن خاص معنوں کا قرآن کریم نے اول سے آخر تک التزام کیا ہے ان کو بغیر کسی قرینہ قویہ کے ترک کر دیا گیا ہے تو فی کا لفظ نہ صرف قرآن کریم میں بلکہ جا بجا احادیث نبویہ میں بھی وفات دینے اور قبض روح کے معنوں پر ہی آتا ہے چنانچہ جب میں نے غور سے صحاح ستہ کو دیکھا تو ہر ایک جگہ جوتو فی کا لفظ ہمارے بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے یا کسی صحابی کے منہ سے تو انہیں معنوں میں محدود پایا گیا۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کسی ایک صحیح حدیث میں بھی کوئی ایسا تو فی کا لفظ نہیں ملے گا جس کے کوئی اور معنے ہوں۔میں نے معلوم کیا ہے کہ اسلام میں بطور اصطلاح کے قبض روح کے لیے یہ لفظ مقرر کیا گیا ہے تا روح کی بقا پر دلالت کرے (ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 425-424) اسی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پھر دنیا میں نہیں آئیں گے کیونکہ اگر وہ دنیا میں آنے والے ہوتے تو اس صورت میں یہ جواب حضرت عیسی کا محض جھوٹ ٹھہرتا ہے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں جو شخص دوبارہ دنیا میں آیا اور چالیس برس رہا۔اور کروڑہا عیسائیوں کو دیکھا۔جو اس کو خدا جانتے تھے اور صلیب کو توڑا اور تمام عیسائیوں کو مسلمان کیا وہ کیونکر قیامت کو جناب الہی میں یہ عذر کر سکتا ہے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں۔(کشتی نوح-رخ- جلد 19 صفحہ 16 حاشیہ )