حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 15
قرآن کریم دین قیم ہے 15 التبليغ یا اهل دار لندوة تعالو الى كلمة سواء بيننا وبينكم ان لا نحكم الا القرآن۔ولا نقبل الا ماوافق قول الرحمن۔و هذا هو الدين القيم۔ايها المتقاعسون۔و انالقرآن کتاب ختم به الهدى۔وفيه كتب قيمة و خبر ماياً تی و ما مضى فبایی حدیث بعده تؤ منون اعلمو انالخير كله في القرآن وشر الاحاديث ما خالفه فاحذر و ها ايها المتقون۔وكلما خالف هدى القرآن وقصصه فاعلمو اانه سقط ولا يقبله الا الفسقون۔واني انا المسيح وبالحق امشی واسیح والله انادی واصيح واذكر كم ايام الله فهل انتم تتذكرون۔وانى جئتكم ببينة من ربي و علمت ما لم تعلمو ا و ابصرت مالا تبصرون۔(تحفہ الندوہ رخ جلد 19 صفحہ 89) ترجمہ۔اے اہل ندوہ آؤ اس کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے اور ہم کوئی فیصلہ نہ کریں بلکہ وہ جو قرآن کہتا ہے اور ہم کوئی ایسی بات باہمی طور پرتسلیم نہ کریں جو قرآن سے موافقت نہ رکھتی ہو۔اور یہ وہ دین قیم ہے یعنی قرآن کریم۔اے سرکشی کرنے والے۔اور یقینا قرآن کریم ایسی کتاب ہے جس میں ہدایت کامل کر دی گئی ہے۔اور اس میں مضبوط کتابیں ( دلائل) ہیں۔اور اس میں ماضی اور حال کی خبریں ہیں۔پس تم اس کو چھوڑ کر کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔جان لو کہ یقینا ساری کی ساری بھلائی قرآن میں ہے۔اور سب سے بڑی وہ حدیث ہے جو قرآن کے مخالف ہو۔پس اے تقوای والو تم اس سے بچتے رہو۔اور جب بھی وہ قرآن کریم اور اس کے بیان کے مخالف پڑے۔تو تم جان لو کہ وہ اعتبار کے قابل نہیں ساقط ہے۔اور اسے سوائے فاسقوں کے کوئی قبول نہیں کرتا اور یقینا میں مسیح ہوں اور حق کے ساتھ چلتا اور سیر کرتا ہوں اور اللہ کے لئے میں پکار کر اور بلند آواز سے کہتا ہوں میں تمہیں اللہ کے ایام یاد دلاتا ہوں کیا تم اس سے نصیحت نہیں پکڑتے۔میں اپنے رب کی طرف سے تمہارے پاس کھلے دلائل کے ساتھ آیا ہوں۔مجھے وہ سکھایا گیا ہے جو تمہیں نہیں سکھایا گیا۔اور مجھے بصیرت عطا کی گئی ہے جس سے تم محروم ہو۔وان القرآن مقدم على كل شئى ووحى الحكم مقدم على احاديث ظنية بشرط ان تطابق القرآن وحيه مطابقة تامة۔وبشر ان تكون الاحاديث غير مطابقة للقرآن و توجد في قصصها مخالفة لقصص صحف مطهرة۔ذالك بان وحى الحكم ثمرة غض وقد جنى مخالفة لقصص صحف مطهرة۔ذالك بان وحي الحكم ثمرة غض وقد جنى من شجرة يقينية۔فمن لم يقبل وحى الامام الموعود۔ونبذه لروايات ليست كالمحسوس المشهود۔فقد ضل ضلا لأمينا ومات ميتة جاهلية ( مواهب الرحمن - رخ جلد 19 صفحہ 288) ترجمہ اور یقینا قرآن مجید ہر چیز پر مقدم ہے۔اور وہی حکم یعنی مسیح موعود احادیث ظنیہ پر مقدم ہے۔اس شرط کے ساتھ کہ مسیح موعود کی وہ وحی قرآن کریم سے بکلی مطابقت رکھتی ہو۔اور اس شرط کے ساتھ کہ حدیث کے بیان قرآن کریم کے بیان سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔یعنی قرآن اور حدیث کے بیان میں باہمی تضاد ہو۔یا مخالف ہو۔یہ اعتقاد اس لئے ضروری ہے۔کیونکہ مسیح موعود کی وی ایک تازہ پھل ہے۔جو یقین کے درخت سے چنا گیا ہے۔پس ہر وہ شخص جو دی امام موعود کو تسلیم نہ کرے اور غیر مشہور روایات کے لئے اس کو ترک کر دے پس وہ واضح گمراہی میں پڑ گیا اور وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔