حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 404
404 اور عقلمند اسمیں غور کریں اور سخت جھگڑالو اس سے ملزم ہوتے ہیں اور ہر یک نشے کی تفصیل اس میں موجود ہے اور یہ ضرورت حقہ کے وقت نازل کیا گیا ہے۔اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا ہے اور یہ کتاب عزیز ہے باطل کو اس کے آگے پیچھے راہ نہیں اور یہ نور ہے جس کے ذریعہ سے ہدایت دی جاتی ہے اس میں ہر ایک شے کا بیان موجود ہے اور یہ روح ہے اور یہ کتاب عربی فصیح بلیغ میں ہے اور تمام صداقتیں غیر متبدل اس میں موجود ہیں ان کو کہدے کہ اگر جن وانس اس کی نظیر بنانا چاہیں یعنی وہ صفات کا ملہ جو اس کی بیان کی گئی ہیں اگر کوئی ان کی مثل بنی آدم اور جنات میں سے بنانا چاہیں تو یہ ان کیلئے ممکن نہ ہوگا اگر چہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔کرامات الصادقین - ر - خ- جلد 7 صفحه 59-58) اسلوب قرآن تکرار بیان کے اعتبار سے فَبِأَيِّ الْآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَنِ۔(الرحمن: 14) اس سوال کے جواب میں کہ سورۃ رحمن میں اعادہ کیوں ہوا ہے فرمایا:۔اس قسم کا التزام اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک ممتاز نشان ہے۔انسان کی فطرت میں یہ امر واقع ہوا ہے کہ موزوں کلام اسے جلد یاد ہو جاتا ہے اس لئے فرمایا وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ (القمر : 23) یعنی بیشک ہم نے یاد کرنے کے لئے قرآن شریف کو آسان کر دیا ہے۔۔۔۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ بار بار توجہ دلانے کے واسطے ہے۔اسی تکرار پر نہ جاؤ قرآن شریف میں اور بھی تکرار ہے۔میں خود بھی تکرار کو اسی وجہ سے پسند کرتا ہوں۔میری تحریروں کو اگر کوئی دیکھتا ہے تو وہ اس تکرار کو بکثرت پائے گا۔حقیقت سے بے خبر انسان اس کو منافی بلاغت سمجھ لے گا اور کہے گا کہ یہ بھول کر لکھا ہے حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید پڑھنے والا پہلے جو کچھ لکھا ہے اسے بھول گیا ہو اس لئے بار بار یاد دلاتا ہوں تا کہ کسی مقام پر تو اس کی آنکھ کھلے۔اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْنِيَّاتِ۔علاوہ بریں تکرار پر اعتراض ہی بے فائدہ ہے اس لئے کہ یہ بھی تو انسانی فطرت میں ہے کہ جب تک بار بار ایک بات کو دہرائے نہیں وہ یاد نہیں ہوتی۔سُبْحَانَ رَبِّيَ الأعْلیٰ اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ بار بار کیوں کہلوایا ایک بار ہی کافی تھا ؟ نہیں۔اس میں یہی سر ہے کہ کثرت تکرار اپنا ایک اثر ڈالتی ہے اور غافل سے غافل قوتوں میں بھی ایک بیداری پیدا کر دیتی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (الانفال: 46 ) یعنی اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو تا کہ تم فلاح پا جاؤ۔جس طرح یہ ذہنی تعلق ہوتا ہے اور کثرت تکرار ایک بات کو حافظہ میں محفوظ کر دیتی ہے۔اسی طرح ایک روحانی تعلق بھی ہے اس میں بھی تکرار کی