حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 403 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 403

403 قرآن طرز موزوں اور معتدل پر نازل ہوا ہے اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ۔۔۔۔۔۔الاية (النور : 36) ہر یک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔تو ریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی سو انجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقع تھا۔نہ ہر جگہ حلم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقع کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی سو قرآن شریف بھی اسی طرز موزوں و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت ورحمت و ہیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔(براہین احمدیہ -رخ- جلد 1 صفحہ 193 حاشیہ نمبر (11) قرآن کی تعلیم قانون قدرت کے مطابق ہے لیکن قرآن کریم اخلاقی تعلیم میں قانون قدرت کے قدم بہ قدم چلا ہے۔رحم کی جگہ جہاں تک قانون قدرت اجازت دیتا ہے رحم ہے اور قہر اور سزا کی جگہ اسی اصول کے لحاظ سے قہر اور سزا اور اپنی اندرونی اور بیرونی تعلیم میں ہر ایک پہلو سے کامل ہے اور اس کی تعلیمات نہایت درجہ کے اعتدال پر واقعہ ہیں جو انسانیت کے سارے درخت کی آبپاشی کرتی ہیں نہ کسی ایک شاخ کی۔اور تمام قومی کی مربی ہیں نہ کسی ایک قوت کی۔اور در حقیقت اسی اعتدال اور موزونیت کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے۔كِتَابًا مُتَشَابِهًا (الزمر: 24 ) پھر بعد اس کے مَشَانِي کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات معقولی اور روحانی دونوں طور کی روشنی اپنے اندر رکھتی ہیں۔پھر بعد اس کے فرمایا کہ قرآن میں اس قدر عظمت حق کی بھری ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی آیتوں کی سننے سے ان کے دلوں پر قشعر یرہ پڑ جاتا ہے اور پھر ان کی جلدیں اور ان کے دل یا دالہی کے لئے بہ نکلتے ہیں۔اور پھر فرمایا کہ یہ کتاب حق ہے اور نیز میزان حق یعنی یہ حق بھی ہے اور اس کے ذریعہ سے حق شناخت بھی ہوسکتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے پانی اتارا۔پس اپنے اپنے قدر پر ہر یک وادی بہن نکلی یعنی جسقدر دنیا میں طبائع انسانی ہیں قرآن کریم انکے ہر یک مرتبہ فہم اور عقل اور ادراک کی تربیت کر نیوالا ہے اور یہ امر مستلزم کمال تام ہے کیونکہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم اس قدر وسیع دریائے معارف ہے کہ محبت الہی کے تمام پیا سے اور معارف حقہ کی تمام تشنہ لب اسی سے پانی پیتے ہیں۔اور پھر فرمایا کہ ہم نے قرآن کریم کو اسلئے اتارا ہے کہ تا جو پہلی قوموں میں اختلاف ہو گئے ہیں ان کا اظہار کیا جائے۔اور پھر فرمایا کہ یہ قرآن ظلمت سے نور کی طرف نکالتا ہے۔اور اس میں تمام بیماریوں کی شفا ہے اور طرح طرح کی برکتیں یعنی معارف اور انسانوں کو فائدہ پہنچانے والے امور اس میں بھرے ہوئے ہیں اور اس لائق ہے کہ اس کو تدبر سے دیکھا جائے