حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 390
390 لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ۔رَسُوْلٌ مِّنَ اللهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ۔(البيئة: 2تا4) ہما را دعویٰ ہے کہ قرآن اصلاح کامل اور تزکیۂ اتم اور اکمل کے لئے آیا ہے اور وہ خود دعوی کرتا ہے کہ تمام کامل سچائیاں اس کے اندر ہیں جیسا کہ فرماتا ہے فِيهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ تو اس صورت میں ضرور ہے کہ جہاں تک سلسلہ معارف اور علوم الہیہ کا مند ہو سکے وہاں تک قرآنی تعلیم کا بھی دامن پہنچا ہوا ہو اور یہ بات صرف میں نہیں کہتا بلکہ قرآن خود اس صفت کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اپنا نام اکمل الکتب رکھتا ہے۔پس ظاہر ہے کہ اگر معارف الہیہ کے بارے میں کوئی حالت منتظرہ باقی ہوتی جس کا قرآن شریف نے ذکر نہیں کیا تو قرآن شریف کا حق نہیں تھا کہ وہ اپنا نام اکمل الکتب رکھتا۔(سراج منیر۔ر۔خ۔جلد 12 صفحہ 41) إِنَّهُ لَقَوْلُ فَصْلٌ وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ (الطارق : 15:14) یعنی علم معاد میں جس قدر تنازعات اٹھیں سب کا فیصلہ یہ کتاب کرتی ہے بے سود اور بریکار نہیں ہے۔( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 224 حاشیہ نمبر 11) وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَئِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ ط مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ (الانعام: 39) ہر چند میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن اپنی تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں کیونکہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے۔۔۔۔۔ما فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ یعنی ہم نے اس کتاب سے کوئی چیز باہر نہیں رکھی۔لیکن ساتھ اس کے یہ بھی میرا اعتقاد ہے کہ قرآن کریم سے تمام مسائل دینیہ کا استخراج واستنباط کرنا اور اس کی مجملات کی تفاصیل صحیحہ پر حسب منشاء الہی قادر (ہوتا) ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں بلکہ یہ خاص طور پر ان کا کام ہے جو وحی الہی سے بطور نبوت یا بطور ولایت عظمی مدددیئے گئے ہوں۔الحق لدھیانہ۔ر-خ- جلد 4 صفحہ 81-80)