حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 387 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 387

387 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة: 4) شریعت وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے اور جو قرآن شریف نے دنیا کو سکھلائی۔ایک نقطہ نہ گھٹایا گیا نہ بڑھایا گیا ہے۔خدا جس طرح پہلے دیکھتا تھا اب بھی دیکھتا ہے اسی طرح جس طرح پہلے کلام کرتا تھا اسی طرح اب بھی صفت تکلم اس میں موجود ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اب خدا کلام نہیں کرتا۔کیا خیال کیا جا سکتا ہے کہ پہلے تو خدا سنتا تھا۔مگر اب نہیں سنتا۔پس اللہ تعالیٰ کے تمام صفات جو پہلے موجود تھے اب بھی اس میں پائے جاتے ہیں خدا میں تغیر نہیں۔شریعت چونکہ تکمیل پاچکی ہے۔لہذا اب کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دینگم (المائدہ: 4) پس اکمال دین کے بعد اور کسی نئی شریعت کی حاجت نہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 542) قُل جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ۔(سبا:50) عقل اس بات پر قطع واجب کرتی ہے کہ آئندہ بھی کسی نوع کا تغیر اور تبدل قرآن شریف میں واقع ہونا ممتنع اور محال ہے اور مسلمانوں کا پھر شرک اختیار کرنا اس جہت سے ممتعات میں سے ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس بارے میں بھی پیشگوئی کر کے آپ فرما دیا ہے مَا يُبْدِي الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ یعنی شرک اور مخلوق پرستی جس قدر دور ہو چکی ہے پھر وہ نہ اپنی کوئی نئی شاخ نکالے گی اور نہ اسی پہلی حالت پر عود کرے گی۔سو اس پیشین گوئی کی صداقت بھی اظہر من الشمس ہے کیونکہ باوجود منقضی ہونے زمانہ دراز کے اب تک ان قوموں اور ان ملکوں میں کہ جن سے مخلوق پرستی معدوم کی گئی تھی پھر شرک اور بت پرستی نے تو حید کی جگہ نہیں لی اور آئندہ بھی عقل اس پیشین گوئی کی سچائی پر کامل یقین رکھتی ہے کیونکہ جب اوائل ایام میں کہ مسلمانوں کی تعداد بھی قلیل تھی تعلیم توحید میں کچھ تزلزل واقع نہیں ہوا بلکہ روز بروز ترقی ہوتی گئی تو اب کہ جماعت اس موحد قوم کی بیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ ہے کیونکر تزلزل ممکن ہے۔علاوہ اس کے زمانہ بھی وہ آ گیا ہے کہ مشرکین کی طبیعتیں بباعث متواتر استماع تعلیم فرقانی اور دائمی صحبت اہل توحید کے کچھ کچھ تو حید کی طرف میل کرتی جاتی ہیں۔جدھر دیکھو دلائل وحدانیت کے بہادر سپاہیوں کی طرح شرک کے خیالی اور وہمی برجوں پر گولہ اندازی کر رہے ہیں اور توحید کے قدرتی جوش نے مشرکوں کے دلوں پر ایک ہلچل ڈال رکھی ہے اور مخلوق پرستی کی عمارت کا بودا ہونا عالی خیال لوگوں پر ظاہر ہوتا جاتا ہے اور وحدانیت الہی کی پرزور بندوقیں شرک کے بدنما جھونپڑوں کو اڑاتی جاتی ہیں۔پس ان تمام آثار سے ظاہر ہے کہ اب اندھیرا شرک کا ان اگلے دنوں کی طرح پھیلنا کہ جب تمام دنیا نے مصنوع چیزوں کی ٹانگ صانع کی ذات اور صفات میں پھنسا رکھی تھی ممتنع اور محال ہے اور جب کہ فرقان مجید کے اصول حقہ کا محرف اور مبدل ہو جانایا پھر ساتھ اس کے تمام خلقت پر تاریکی شرک اور مخلوق پرستی کا بھی چھا جانا عند العقل محال اور ممتنع ہوا تو نئی شریعت اور نئے الہام کے نازل ہونے میں بھی امتناع عقل لازم آیا کیونکہ جو امر ستلزم محال ہو وہ بھی محال ہوتا ہے پس ثابت ہوا کہ آنحضرت ”حقیقت میں خاتم الرسل ہیں۔( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 103-102 حاشیہ نمبر 9)