حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 386 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 386

386 نبی کریم خاتم الانبیاء ہیں قرآن کریم آخری شریعت ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَ لَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ طَ وَ كَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا۔(الاحزاب: 41) یہ خوب یادرکھنا چاہیئے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اسکی پیروی معطل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔(رسالہ الوصیت - ر - خ - جلد 20 صفحہ 311 حاشیہ ) خوب یاد رکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلم خاتم الانبیاء ہیں یعنی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نئی شریعت اور نئی کتاب نہ آئے گی۔نئے احکام نہ آئیں گے۔یہی کتاب اور یہی احکام رہیں گے جو الفاظ میری کتابوں میں نبی یا رسول کے میری نسبت پائے جاتے ہیں اس میں ہرگز یہ منشاء نہیں ہے کہ کوئی نئی شریعت یا نئے احکام سکھائے جاویں بلکہ منشاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ضرورت حقہ کے وقت کسی کو مامور کرتا ہے تو ان معنوں سے کہ مکالمات الہیہ کا شرف اس کو دیتا ہے اور غیب کی خبریں اس کو دیتا ہے اس پر نبی کا لفظ بولا جاتا ہے اور وہ مامور نبی کا خطاب پاتا ہے یہ معنے نہیں ہیں کہ نئی شریعت دیتا ہے یا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو نعوذ باللہ منسوخ کرتا ہے بلکہ یہ جو کچھ اسے ملتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کچی اور کامل اتباع سے ملتا ہے اور بغیر اس کے مل سکتا ہی نہیں۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 498) میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔یہ تو ممکن ہے کہ کلام الہی کے معنے کرنے میں بعض مواقع میں ایک وقت تک مجھ سے خطا ہو جائے مگر یہ ممکن نہیں کہ میں شک کروں کہ وہ خدا کا کلام نہیں۔اور چونکہ میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اسی لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔شریعت کا حامل قیامت تک قرآن شریف ہے۔(تجلیات الہیہ۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 412) ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل شریعت لے کر آئے جو نبوت کے خاتم تھے اسلئے زمانہ کی استعدادوں اور قابلیتوں نے ختم نبوت کر دیا تھا۔پس حضور علیہ السلام کے بعد ہم کسی دوسری شریعت کے آنے کے قائل ہر گز نہیں۔ہاں جیسے ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ تھے اسی طرح آپ کے سلسلہ کا خاتم جو خاتم الخلفاء یعنی مسیح موعود ہے ضروری تھا کہ مسیح علیہ السلام کی طرح آتا۔پس میں وہی خاتم الخلفاء اور مسیح موعود ہوں۔جیسے مسیح کوئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے بلکہ شریعت موسوی کے احیاء کے لئے آئے تھے میں کوئی جدید شریعت لے کر نہیں آیا اور میرا دل ہر گز نہیں مان سکتا کہ قرآن شریف کے بعد اب کوئی اور شریعت آسکتی ہے کیونکہ وہ کامل شریعت اور خاتم الکتب ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے مجھے شریعت محمدی کے احیاء کے لئے اس صدی میں خاتم الخلفاء کے نام سے مبعوث فرمایا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 490)