حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 341
341 آیت فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم:31) کے معنے یہی ہیں کہ اسلام فطرتی مذہب ہے۔انسان کی بناوٹ جس مذہب کو چاہتی ہے وہ اسلام ہے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ اسلام میں بناوٹ نہیں ہے۔اس کے تمام اصول فطرت انسانی کے موافق ہیں تثلیث اور کفارہ کی طرح نہیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آسکتے۔عیسائیوں نے خود مانا ہے کہ جہاں تثلیث نہیں گئی وہاں توحید کا مطالبہ ہو گا کیونکہ فطرت کے موافق تو حید ہی ہے۔اگر قرآن شریف نہ بھی ہوتا تب بھی انسانی فطرت تو حید ہی کو مانتی کیونکہ وہ باطنی شریعت کے موافق ہے۔ایسا ہی اسلام کی کل تعلیم باطنی شریعت کے موافق ہے برخلاف عیسائیوں کی تعلیم کے جو مخالف ہے۔دیکھو حال ہی میں امریکہ میں طلاق کا قانون خلاف انجیل پاس کرنا پڑا۔یہ وقت کیوں پیش آئی اس لئے کہ انجیل کی تعلیم فطرت کے موافق نہ تھی۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 450-449) جو کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے قانون قدرت اس کو پوری مدد دیتا ہے گویا جو قرآن میں ہے وہی کتاب مکنون میں ہے اس کا راز انبیاءعلیہم السلام کی پیروی کے بدوں سمجھ میں نہیں آسکتا اور یہی وہ سر ہے جو لَا يَمَسُّه إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (الواقعه : 80) میں رکھا گیا ہے۔اِنَّ هَذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِيْن - (الواقعة : 96) ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 343) قرآن متقیوں کو وہ سارے امور یاد دلاتا ہے جو ان کی فطرت میں مخفی اور مستور تھے اور یہ حق محض ہے جو انسان کو یقین تک پہنچاتا ہے۔روحانی اور جسمانی نظام باہم مخالف نہیں ہیں جنگ مقدس۔رخ۔جلد 6 صفحہ 87) وَ هُوَ الَّذِى خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَّ صِهْرًا ط وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا - (الفرقان: 55) خدا وہ ذات قادر مطلق ہے جس نے بشر کو اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا پھر اس کے لئے نسل اور رشتہ مقرر کر دیا۔اسی طرح وہ انسان کی روحانی پیدائش پر بھی قادر تھا یعنی اس کا قانون قدرت روحانی پیدائش میں بعینہ جسمانی پیدائش کی طرح ہے کہ اول وہ ضلالت کے وقت میں کہ جو عدم کا حکم رکھتا ہے کسی انسان کو روحانی طور پر اپنے ہاتھ سے پیدا کرتا ہے اور پھر اس کے متبعین کو کہ جو اس کی ذریت کا حکم رکھتے ہیں یہ برکت متابعت اس کی کے روحانی زندگی عطا فرماتا ہے سو تمام مرسل روحانی آدم ہیں اور ان کی امت کے نیک لوگ ان کی روحانی نسلیں ہیں اور روحانی اور جسمانی سلسلہ بالکل آپس میں تطابق رکھتا ہے اور خدا کے ظاہری اور باطنی قوانین میں کسی نوع کا اختلاف نہیں۔( براھین احمدیہ - ر- خ - جلد 1 صفحہ 656-654)