حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 340 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 340

340 پانچویں فصل قرآن۔کتاب مکنون قرآنی تعلیم انسانی فطرت کے مطابق ہے فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُوْمِ۔وَ إِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيمٌ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيْمٌ۔فِي كِتَب مَّكْنُون لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۔(الواقعه: 76 تا 80) میں مواقع النجوم کی قسم کھاتا ہوں اور یہ بڑی قسم ہے اگر تمہیں علم ہوا اور قسم اس بات پر ہے کہ یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اور اس کی تعلیمات سنت اللہ کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تمام تعلیمات کتاب مکنون یعنی صحیفہء فطرت میں لکھی ہوئی ہیں اور اس کے دقائق کو وہی لوگ معلوم کرتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں۔(کرامات الصادقین۔۔۔خ۔جلد 7 صفحہ 53-52) بلکہ یہ سارا صحیفہ قدرت کے مضبوط صندوق میں محفوظ ہے۔کیا مطلب کہ یہ قرآن کریم ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے اس کا وجود کاغذوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے جس کو صحیفہ فطرت کہتے ہیں یعنی قرآن کی ساری تعلیم کی شہادت قانون قدرت کے ذرہ ذرہ کی زبان سے ادا ہوتی ہے اس کی تعلیم اور اس کی برکات کتھا کہانی نہیں جومٹ جائیں۔انسانی فطرت کا پورا اور کام کیس صرف قرآن شریف ہی ہے اگر قرآن نہ بھی آیا ہوتا۔جب بھی اس تعلیم کے مطابق انسان سے سوال کیا جاتا کیونکہ یہ ایسی تعلیم ہے جو فطرتوں میں مرکوز اور قانون قدرت کے ہر صفحہ میں مشہور ہے۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 41) ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 655) وَهذَا ذِكْرٌ مُبْرَكَ اَنْزَلْنَه، اَفَاَنْتُمْ لَهُ مُنْكِرُوْنَ۔(الانبياء: 51) قرآن شریف صرف سماع کی حد تک محدود نہیں ہے کیونکہ اس میں انسانوں کے سمجھانے کے لئے بڑے بڑے معقول دلائل ہیں اور جس قدر عقائد اور اصول اور احکام اس نے پیش کئے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا امر نہیں جس میں زبردستی اور تحکم ہو جیسا کہ اس نے خود فرما دیا ہے کہ یہ سب عقائد وغیرہ انسان کی فطرت میں پہلے سے منقوش ہیں اور قرآن شریف کا نام ذکر رکھا ہے جیسا کہ فرماتا ہے هذَا ذِكْرٌ مُبرَک یعنی یہ قرآن با برکت کوئی نئی چیز نہیں لایا بلکہ جو کچھ انسان کی فطرت اور صحیفہ قدرت میں بھرا پڑا ہے اس کو یاد دلاتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 433)