حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 326 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 326

326 پس وہ تین قسم کی اصلاحیں جن کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں۔ان کا در حقیقت یہی زمانہ تھا۔پس اسی وجہ سے قرآن شریف دنیا کی تمام ہدایتوں کی نسبت اکمل اور اتم ہونے کا دعوی کرتا ہے کیونکہ دنیا کی اور کتابوں کو ان تین قسم کی اصلاحوں کا موقعہ نہیں ملا اور قرآن شریف کو ملا۔اور قرآن شریف کا یہ مقصد تھا کہ حیوانوں سے انسان بنادے اور انسان سے باخلاق انسان بناوے اور باخلاق انسان سے باخدا انسان بنادے۔اسی واسطے ان تین امور پر قرآن شریف مشتمل ہے۔قرآنی تعلیم کا اصل منشاء اصلاحات ثلاثہ ہیں۔اور طبیعی حالتیں تعدیل سے اخلاق بن جاتی ہیں اور قبل اس کے جو ہم اصلاحات ثلاثہ کا مفصل بیان کریں یہ ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ قرآن شریف میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جوز بر دستی مانی پڑے بلکہ تمام قرآن کا مقصد صرف اصلاحات ثلاثہ ہیں اور اس کی تمام تعلیموں کا لب لباب یہی تین اصلاحیں ہیں۔اور باقی تمام احکام ان اصلاحوں کے لئے بطور وسائل کے ہیں۔تاریکی سے نکال کر نور میں داخل کرنا اسلامی اصول کی فلاسفی۔۔۔خ۔جلد 10 صفحہ 329) الراكِتُبْ أَنْزَلْنَهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّوْرِ بإِذْن رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ۔(ابراهيم: 2) یہ عالی شان کتاب ہم نے تجھ پر نازل کی تاکہ تو لوگوں کو ہر ایک قسم کی تاریکی سے نکال کر نور میں داخل کرے۔یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جس قدر انسان کے نفس میں طرح طرح کے وساوس گذرتے ہیں اور شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ان سب کو قرآن شریف دور کرتا ہے اور ہر یک طور کے خیالات فاسدہ کو مٹاتا ہے اور معرفت کامل کا نور بخشتا ہے یعنی جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور اس پر یقین لانے کے لئے معارف و حقائق درکار ہیں سب عطا فرماتا ہے۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 225 حاشیہ نمبر 11 ) قرآن۔ہر استعداد کی تکمیل کے لئے نازل ہوا ہے یہ ہرگز سچ نہیں کہ جو کچھ قرآن کریم کے معارف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ان سے زیادہ قرآن کریم میں کچھ بھی نہیں۔یہ اقوال ہمارے مخالفوں کے صاف دلالت کر رہے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی غیر محدود عظمتوں اور خوبیوں پر ایمان نہیں لاتے اور ان کا یہ کہنا کہ قرآن کریم ایسوں کے لیے اترا ہے جو امی تھے اور بھی اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ قرآن شناسی کی بصیرت سے بکلی بے بہرہ ہیں۔وہ نہیں سمجھتے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محض امیوں کے لیے نہیں بھیجے گئے بلکہ ہر یک رتبہ اور طبقہ کے انسان ان کی امت میں داخل ہیں۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (اعراف آیت 159 ) پس اس آیت سے ثابت ہے کہ قرآن کریم ہر ایک استعداد کی تکمیل کے لیے نازل ہوا ہے در حقیقت آیت وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النبيين (احزاب آیت 41) میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔کرامات الصادقین - ر- خ- جلد 7 صفحہ 61)