حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 288 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 288

288 آنحضرت کا وقت عصر کا وقت تھا آپ کا وقت قریب غروب آفتاب ہے خدا تعالیٰ نے اس دنیا کو ایک دن مقرر کر کے آنحضرت ﷺ کے زمانے کو عصر کے وقت سے تشبیہ دی ہے پھر جب آنحضرت علی کا زمانہ عصر ہوا تو پھر اب تیرہ سو چو بیس برس کے بعد اس زمانے کا کیا نام رکھنا چاہیے کیا یہ وقت قریب غروب نہیں اور پھر جب قریب غروب ہوا تو مسیح کے نازل ہونے کا اگر یہ وقت نہیں تو اس کے بعد کوئی وقت نہیں۔اسی طرح احادیث صحیحہ میں جو بعض ان کی صحیح بخاری میں پائی جاتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کے زمانے کو عصر سے تشبیہ دی ہے۔پس اس سے ماننا پڑتا ہے کہ ہمارا زمانہ قیامت کے قرب کا زمانہ ہے اور پھر دوسری حدیثوں سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے۔کہ عمر دنیا کی سات ہزار سال ہے اور قرآن شریف کی اس آیت سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (الحج:48) یعنی ایک دن خدا کے نزدیک تمہارے ہزار سال کے برابر ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ کی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ دن سات ہیں پس اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ انسانی نسل کی عمر سات ہزار سال ہے جیسا کہ خدا نے میرے پر ظاہر کیا کہ سورۃ العصر کے عدد جس قدر حساب جمل کی رو سے معلوم ہوتے ہیں اسی قدر نسل انسان کا آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک تک بحساب قمری گذر چکا تھا کیونکہ خدا نے حساب قمری رکھا ہے اور اس حساب سے ہماری اس وقت تک نسل انسان کی عمر چھ ہزار برس تک ختم ہو چکی ہے اور اب ہم ساتویں ہزار میں ہیں اور یہ ضرور تھا کہ مثیل آدم جس کو دوسرے لفظوں میں مسیح موعود کہتے ہیں چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہوا جو جمعہ کے دن کے قائم مقام ہے جس میں آدم پیدا ہوا اور ایسا ہی خدا نے مجھے پیدا کیا۔پس اس کے مطابق چھٹے ہزار میں میری پیدائش ہوئی اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میں معمولی دنوں کی رو سے جمعہ کے دن پیدا ہوا تھا اور جیسا کہ آدم نر اور مادہ پیدا ہوئے تھے میں بھی تو ام کی شکل پر پیدا ہوا تھا۔ایک میرے ساتھ لڑکی تھی جو پہلے پیدا ہوئی اور بعد میں اس کے میں پیدا ہوا۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 457 تا 458) 66 الف شهر “ سے مراد ”الف سنة“ ہے وَإِلَيْهِ أَشَارَسُبْحَانَهُ تَعَالَى فِى قَوْلِهِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ يَعْنِي مِنْ أَلْفِ سَنَةٍ۔وَكَثَرَتِ الَّا سُتِعَارَاتُ كَمِثْلِهِ فِى كُتُبِ سَابِقَةٍ۔ثُمَّ بَعُدَ ذَالِكَ الْأَلْفِ زَمَانُ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَزَمَانُ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ فَقَدْتَمَّ الْيَوْمَ اَلْفُ اضَّلَالَةِ وَالْمَوْتِ وَجَاءَ وَقْتُ بَعْدَ الْإِسْلَامِ الْمَوْءُ وُدِ۔وَتَمَّتْ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ أَيّهَا الْمُنْكِرُونَ۔فَلا تَكُونُوامِنَ الظَّانِه بِاللهِ ظَنَّ السَّوْءِ۔ترجمہ از مرتب۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے قول لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ میں اشارہ فرمایا ہے۔اَلْفِ شَھر سے مراد یہاں الف سنة ہے اور ایسے استعارات کتب سابقہ میں کثرت سے آئے ہیں۔اسلام پر اس ہزار سالہ موت کے بعد بعث الموت اور مسیح موعود کا زمانہ ہے پس آج ضلالت اور موت کا ہزار