حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 273 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 273

273 سورة التكوير إِذَا الشَّمْسُ كُوّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ۔وَإِذَا الْجِبَالُ۔۔سُيِّرَتْ وَإِذَا الْعِشَارُ عُطّلَتْ۔وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَت وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتُ۔وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۔(التكوير: 2 تا 11) علامات ظهور مهدی اس بات کے ثبوت کے لئے کہ در حقیقت یہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح ظاہر ہو جانا چاہیے دوطور کے دلائل موجود ہیں۔(۱) اول وہ آیت قرآنیہ اور آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ اونٹوں کی سواری کا موقوف ہو جانا جس کی تصریح آیت وَإِذَا الْعِشَارُ عُقِّلَتْ سے ظاہر ہے اور سخت قسم کا کسوف شمس واقع ہونا جس سے تاریکی پھیل جائے جیسا کہ آیت إِذَا الشَّمْسُ كُورَت سے ظاہر ہے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے اٹھا دینا جیسا کہ وَإِذَا الْجِبَالُ سُيّرت سے سمجھا جاتا ہے اور جولوگ وحشی اور اراذل اور اسلامی شرافت سے بے بہرہ ہیں ان کا اقبال چمک اٹھنا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَت سے مترشح ہو رہا ہے اور تمام دنیا میں تعلقات اور ملاقاتوں کا سلسلہ گرم ہو جانا اور سفر کے ذریعہ سے ایک کا دوسرے کو ملنا سہل ہو جانا جیسا کہ بدیہی طور پر آیت وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ سے سمجھا جاتا ہے اور کتابوں اور رسالوں اور خطوط کا ملکوں میں شائع ہو جانا جیسا کہ آیت وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَت سے ظاہر ہو رہا ہے اور علماء کی باطنی حالت کا جو نجوم اسلام میں مکدر ہو جانا جیسا کہ وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ سے صاف معلوم ہوتا ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 242 تا243) دجالی زمانہ۔۔۔کی علامات میں جب کہ ارضی علوم وفنون زمین سے نکالے جائیں گے بعض ایجادات اور صناعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے وَإِذَا الْعِشَارُ عُطّلت یعنی اس وقت اونٹنی بیکار ہو جائے گی اور اس کا کچھ قدرمنزلت نہیں رہے گا عشار حملد ار اونٹنی کو کہتے ہیں جو عربوں کی نگاہ میں بہت عزیز ہے اور ظاہر ہے کہ قیامت سے اس آیت کو کچھ تعلق نہیں کیونکہ قیامت ایسی جگہ نہیں جس میں اونٹ اونٹنی کو ملے اور حمل ٹھہرے بلکہ یہ ریل کے نکلنے کی طرف اشارہ ہے اور حملدار ہونے کی اس لئے قید لگادی کہ تا یہ قید دنیا کے واقعہ پر قرینہ تو یہ ہو اور آخرت کی طرف ذرہ بھی و ہم نہ جائے۔۔۔۔۔وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَت اور جس وقت جانیں باہم ملائی جائیں گی۔یہ تعلقات اقوام اور بلا د کی طرف اشارہ ہے۔مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں بباعث راستوں کے کھلنے اور