حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 244 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 244

244 حضرت اقدس نوع انسان کو جمع کریں گے يَا يُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ ج مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَآتَلُونَ بِه وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ) (النساء:2) وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَهُمُ جمعا (الکہف: 100)۔جس سے ظاہر ہے کہ نہایت درجہ کا اختلاف پیدا ہو جائے گا اور سب مذاہب ایک دنگل میں ہو کر نکلیں گے تر کنا“ کا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آزادی کا زمانہ ہوگا۔اور یہ آزادی کمال تک پہنچ جائے گی۔تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے مامور کی معرفت ان کو جمع کرنے کا ارادہ کرے گا۔پہلے دیکھو جَمَعْنَهُمُ فرمایا۔اور ابتدائے عالم کے لئے خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً - فرمایا۔لفظ بت اور جمع آپس میں پورا تناقض رکھتے ہیں۔گو یا دائرہ پورا ہو کر پھر وہی زمانہ ہو جائے گا۔پہلے تو وحدۃ شخصی تھی۔اب اخیر میں وحدت نوعی ہو جائے گی۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 427-428) اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قو میں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اس امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت کسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَ دِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كله (الصف: 10) یعنی خداوہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلف ہو اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔(چشمہ معرفت - ر- خ- جلد 23 صفحہ 90) دین اور دنیا کی بھلائی کے اعتبار سے جو لوگ مجھے قبول کرتے ہیں ان کی دین و دنیا بھی اچھی ہو گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے و جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ آل عمران : 56) در حقیقت وہ زمانہ آتا ہے کہ ان کو امیت سے نکال کر خود قوت بیان عطا کرے گا اور وہ منکروں پر غالب ہونگے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 54)