حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 240
240 قَالَ اللهُ هذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ ، لَهُمْ جَنَّتٌ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ، ذَلِكَ الْفَوْزُ ط الْعَظِيمُ (المائده: 120) طاعون کے بارے میں خواہ کوئی حیلہ حوالہ کریں ہر گز کام نہ آوے گا آخر مستقر اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔لوگ جب اُس کو مانیں گے تب وہ اس سے رہائی دے گا۔این المفر (القيامة: 11) بھی اسی پر چسپاں ہے کیونکہ دوسرے آفات میں تو کوئی نہ کوئی مضر ہوتا ہے مگر طاعون میں کوئی مفر نہیں ہے۔صرف خدا کی پناہ ہی کام آوے گی۔خدا کی طرف ظلم کبھی منسوب نہیں ہو سکتا۔جو صادق ہو گا وہ ضرور اپنے صدق سے نفع پاوے گا۔یہ وہی دن ہیں جن کی نسبت کہا گیا ہے هَذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّدِقِينَ صِدْقُهُمْ۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 54) جہاں را دل از میں طاعون دو نیم است نہ ایں طاعون کہ طوفانِ عظیم ا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا یہ طاعون نہیں بلکہ طوفانِ عظیمی ہے۔دنیا کا دل اس طاعون کی وجہ سے بیا بشتاب سوئے عظ که این کشتی ازاں رب عظیم است جلدی سے ہماری کشتی کی طرف آجا۔کہ یہ کشتی خدائے عظیم کی طرف سے ہے۔در شین فارسی متر جم صفحه 270) (کشتی نوح۔ر۔خ۔جلد 19 ٹائیل پیچ ) دابتہ الارض کے ظاہر ہونے کے اعتبار سے وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمُ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمُ : أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِايْتِنَا لَا يُوقِنُونَ (النمل: 83) تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون ہے اور یہی وہ دابتہ الارض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کاٹے گا کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةٌ مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ لا أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِايْتِنَا لَا يُوقِنُون اور جب مسیح موعود کے بھیجنے سے خدا کی حجت ان پر پوری ہو جائے گی تو ہم زمین میں سے ایک جانور نکال کر کھڑا کریں گے وہ لوگوں کو کاٹے گا اور زخمی کرے گا اس لئے کہ لوگ خدا کے نشانوں پر ایمان نہیں لائے تھے۔اور پھر آگے فرمایا ہے وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُكَذِّبُ بِايْتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ - حَتَّى إِذَا جَاءُ وَ قَالَ أَكَذَّبْتُمْ بِايْتِي وَلَمْ تُحِيْطُوا بِهَا عِلْمًا أَمَّا ذَا كُنتُمْ تَعْمَلُوْنَ وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوا فَهُمْ لَا يَنْطِقُونَ (النمل: 84 تا 86) ترجمہ: اس دن ہم ہر ایک اُمت میں سے اُس گروہ کو جمع کریں گے جو ہمارے نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کو ہم جدا جدا جماعتیں بنادیں گے یہاں تک کہ جب وہ عدالت میں حاضر کئے جائیں گے تو خدائے عز وجل ان کو کہے گا کہ کیا تم نے میرے نشانوں کی بغیر تحقیق کے تکذیب کی۔یہ تم نے کیا کیا اور ان پر بوجہ ان کے ظالم ہونے کے حجت پوری ہو جائے گی اور وہ بول نہ سکیں گے۔