حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 229 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 229

229 جہاد بالسیف کی ممانعت کے اعتبار سے فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا الْخَيْتُمُوهُمُ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ : فَإِمَّامَنَّا بَعْدُ وَإِمَّافِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَا نَتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لِيَبْلُوا بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمُ (محمد : 5) ط تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت ﷺ کے منہ سے کلمہ يَضَعُ الْحَرْبَ جاری ہو چکا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود جب آئے گا تو لڑائیوں کا خاتمہ کر دے گا اور اسی کی طرف اشارہ اس قرآنی آیت کا ہے حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا یعنی اس وقت تک لڑائی کرو جب تک کہ مسیح کا وقت آ جائے ي تَضَعَ الْحَرْبُ أَوزارھا ہے۔دیکھو صحیح بخاری موجود ہے جو قران شریف کے بعداً صح الکتاب مانی گئی ہے اس کو غور سے پڑھو۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔۔۔خ جلد 17 صفحہ 8) اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اُس خبیث کو کیوں چھوڑتے ہو تم يَضَعُ الْحَرُب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر فرما چکا ہے سید کونین مصطفے عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا جنگوں کے سلسلے کو وہ یکسر مٹائے گا پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسپند کھیلیں گے بچے سانپوں سے بیخوف و بے گزند یعنی وہ وقت امن کا ہو گا نہ جنگ گا بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا اک معجزہ کے طور سے یہ پیش گوئی ہے کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 78،77) ہے