حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 228 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 228

228 غلبہ اسلام۔عقلی استدلال کے اعتبار سے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كله (الصف: 10) پر سوچتے سوچتے مجھے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دو لفظ ہڑ کی اور حق کے رکھتے ہیں۔ہدی تو یہ ہے کہ اندر روشنی پیدا کرے معمہ نہ رہے یہ گویا اندرونی اصلاح کی طرف اشارہ ہے جو مہدی کا کام ہے اور حق کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خارجی طور پر باطل کو شکست دیوے چنانچہ دوسری جگہ آیا ہے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُط اور خود اس آیت میں بھی فرمایا ہے لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ یعنی اس رسول کی آمد کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ حق کو غلبہ دے گا یہ غلبہ تلوار اور تفنگ سے نہیں ہوگا بلکہ وجوہ عقلیہ سے ہوگا۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 175) حضرت اقدس کو شناخت کئے جانے کی پیشگوئی کے اعتبار سے قُلُ آمِنُوا بِهِ اَولَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِةٍ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلاذْقَانِ سُجَّدًا بنی اسرائیل: 108) مجھے خدا نے اطلاع دی ہے کہ آخر بڑے بڑے مفسد اور سرکش تجھے شناخت کرلیں گے جیسا کہ فرماتا ہے يَخِرُّونَ لِلاذْقَانِ سُجَّدًا۔ٹھوڑیوں پر سجدہ کرتے ہوئے گریں گے۔(براہین احمدیہ۔رخ جلد 21 صفحہ 103 ) سیح موعود کے دعاوی کا انحصار نشانات پر ہوگا قرآن شریف نے جو فرمایا اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةٌ مِّنَ الأرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بايَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ (انفل: 83) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود جس کے وقت کے متعلق یہ پیشگوئی ہے اس کے دعاوی کا بہت بڑا انحصار اور دار و مدار نشانات پر ہو گا اور خدا تعالیٰ نے اسے بھی بہت سے نشانات عطا فرما ر کھے ہوں گے۔کیونکہ یہ جو فرمایا کہ اَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ۔یعنی اس عذاب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے نشانات کی کچھ بھی پروانہ کی اور ان کو نہ مانا اس واسطے ان کو یہ سزا ملی۔ان نشانات سے مراد صرف مسیح موعود کے نشانات ہیں ورنہ یہ امر تو ٹھیک نہیں کہ گناہ تو زید کرے اور اس کی سزا عمرو کو ملے جو اس سے تیرہ سو سال بعد آیا ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اگر لوگوں نے نشانات دیکھے اور ان سے انکار کیا تو اس انکار کی سزا تو ان کو اسی وقت مل گئی اور وہ تباہ اور برباد ہو گئے۔پس معلوم ہوا کہ ان نشانات سے مراد مسیح موعود ہی کے نشانات ہیں جن کا انکار کرنے کی وجہ سے عذاب کی تنبیہہ ہے اور خدا تعالیٰ کا غضب ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے مسیح موعود کے نشانات سے انکار کیا ہے اور یہ خدائی فیصلہ ہے جس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔یہ میں صریح ہے اس بات پر کہ طاعون مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے آئی ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 287-288)