حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 225 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 225

225 ذاتی نمونے کے اعتبار سے قُل لَّوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمُ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ ، أَفَلَا تَعْقِلُونَ (يونس: 17) دوسری خوبی جو شرط کے طور پر مامورین کے لئے ضروری ہے وہ نیک چال چلن ہے کیونکہ بد چال چلن سے بھی دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہ خوبی بھی بدیہی طور پر ہمارے نبی ﷺ میں پائی جاتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمُ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ طَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ یعنی ان کفار کو کہہ دے کہ اس سے پہلے میں نے ایک عمر تم میں ہی بسر کی ہے۔پس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں کس درجہ کا امین اور راستباز ہوں۔اب دیکھو کہ یہ دونوں صفتیں جو مرتبہ نبوت اور ماموریت کے لئے ضروری ہیں یعنی بزرگ خاندان میں سے ہونا اور اپنی ذات میں امین اور راست باز اور خدا ترس اور نیک چلن ہونا قرآن کریم نے آنحضرت علی کی نسبت کمال درجہ پر ثابت کی ہیں اور آپ کی اعلیٰ چال چلن اور اعلیٰ خاندان پر خود گواہی دی ہے اس جگہ میں اس شکر کے ادا کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کی تائید میں اپنی وحی کے ذریعہ سے کفار کو ملزم کیا اور فر مایا کہ یہ میرا نبی اس اعلیٰ درجہ کا نیک چال چلن رکھتا ہے کہ تمہیں طاقت نہیں کہ اس کی گذشتہ چالیس برس کی زندگی میں کوئی عیب اور نقص نکال سکو با وجود اس کے کہ وہ چالیس برس تک دن رات تمہارے درمیان ہی رہا ہے اور نہ تمہیں یہ طاقت ہے کہ اس کے اعلیٰ خاندان میں جو شرافت اور طہارت اور ریاست اور امارت کا خاندان ہے ایک ذرہ عیب گیری کر سکو۔پھر تم سوچو کہ جو شخص ایسے اعلیٰ اور اطہر اور انفس خاندان میں سے ہے اور اس کی چالیس برس کی زندگی جو تمہارے رُو بر وگذری گواہی دے رہی ہے جو افترا اور دروغ بافی اس کا کام نہیں ہے تو پھر ان خوبیوں کے ساتھ جب کہ آسمانی نشان وہ دکھلا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی تائید میں اس کے شامل حال ہو رہی ہیں اور تعلیم وہ لایا ہے جس کے مقابل پر تمہارے عقائد سراسر گندے اور ناپاک اور شرک سے بھرے ہوئے ہیں تو پھر اس کے بعد تمہیں اس نبی کے صادق ہونے میں کون سا شک باقی ہے۔اسی طور سے خدا تعالیٰ نے میرے مخالفین اور مکذبین کو ملزم کیا ہے۔چنانچہ براہین احمدیہ کے صفحہ 512 میں میری نسبت یہ الہام ہے جس کے شائع کرنے میں بیس برس گزر گئے اور وہ یہ ہے وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمُ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ یعنی ان مخالفین کو کہہ دے کہ میں چالیس برس تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں اور اس مدت دراز تک تم مجھے دیکھتے رہے ہو کہ میرا کام افترا اور دروغ نہیں اور خدا نے ناپاکی کی زندگی سے مجھے محفوظ رکھا ہے تو پھر جو شخص اس قدرمدت در از تک یعنی چالیس برس تک ہر ایک افترا اور شرارت اور مکر اور خباثت سے محفوظ رہا اور کبھی اس نے خلقت پر جھوٹ نہ بولا تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ برخلاف اپنی عادت قدیم کے اب وہ خدا تعالیٰ پر افترا کرنے لگا۔( تریاق القلوب - رخ جلد 15 صفحہ 281 تا283)