حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 224
224 خلفاء سلسلہ محمدیہ کی تعیین کے اعتبار سے وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِيتُ۔(المرسلت : 12) وہ آخری زمانہ جس سے رسولوں کے عدد کی تعیین ہو جائے گی یعنی آخری خلیفہ کے ظہور سے قضاء وقدر کا اندازہ مرسلین کی تعداد کی نسبت مخفی تھا ظہور میں آجائے گا۔یہ آیت بھی اس بات پر نص صریح ہے کہ مسیح موعود اسی اُمت میں سے ہوگا کیونکہ اگر پہلا میچ ہی دوبارہ آجائے تو وہ افادہ تین عدد نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تو بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک رسول ہے جو فوت ہو چکا ہے اور اس جگہ خلفاء سلسلہ محمدیہ کی تعیین مطلوب ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ اقنت کے یہ معنے یعنی معین کرنا اس عدد کا جو ارادہ کیا ہے کہاں سے معلوم ہوا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کتب لغت لسان العرب وغیرہ میں لکھا ہے قَدْ يَجِئُى التَّوْقِيتُ بِمَعْنى تبينِ الْحَدِ وَالْعَدَهِ وَالْمِقْدَارِ كَمَا جَاءَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يَقُتُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ حَدًّا أَيْ لَمْ يُقَدِرُ وَلَمْ يَحُدَّهُ بِعَدَدٍ مَخصُوص یعنی توقیت جس سے اقتت نکلا ہے بھی حد اور شمار اور مقدار بیان کرنے کیلئے آتا ہے جیسا کہ حدیث ابن عباس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خم کی کچھ توقیت نہیں کی۔یعنی خم کی حد کی کوئی تعداد اور مقدار بیان نہیں کی اور تعیین عدد بیان نہیں فرمائی۔تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 245 244) مکفرین کے سب وشتم کے اعتبار سے يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَاتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُولِ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُنَ (يس: 31) ان لوگوں نے کوئی ہمیں ہی گالیاں نہیں دیں بلکہ یہ معاملہ تمام انبیاء کے ساتھ اسی طرح چلا آیا ہے۔آنحضرت کو بھی کذاب ،ساحر، مجنون ہمفتری وغیرہ الفاظ سے یاد کیا گیا تھا اور انجیل کھول کر دیکھ تو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسی سے بھی ایسا ہی برتاؤ کیا گیا۔حضرت موسی کو بھی گالیاں دی گئی تھیں۔اصل میں تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ والی بات ہے اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے يحَسُرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُنَ کوئی بھی ایسا سچا نبی نہیں آیا کہ آتے ہی اس کی عزت کی گئی ہو۔ہم کیونکر سمت اللہ سے باہر ہوسکتے ہیں۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 610) کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہ کیا گیا۔پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُنَ پس خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے مگر ایسا آدمی جو تمام لوگوں کے رو برو آسمان سے اترے اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں اُس سے کون ٹھٹھا کرے گا۔پس اس دلیل سے بھی عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا آسمان سے اُترنا محض جھوٹا خیال ہے۔( تذکرہ الشہادتین۔رخ جلد 20 صفحہ 66-67) کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں! نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹا یا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام - ر-خ- جلد 5 صفحہ 225)