حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 219
219 آنحضرت ﷺ کے جمالی مظہر ہونے کے اعتبار سے وَاذْقَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يُبَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ مُّصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَ هُمُ بالبَيِّنَتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ (الصف: 7) آیت وَمُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت علی کا آخر زمانہ میں ایک مظہر ظاہر ہو گا گویاوہ اس کا ایک ہاتھ ہو گا جس کا نام آسمان پر احمد ہو گا اور حضرت مسیح کے رنگ (تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 69،68) میں جمالی طور پر دین کو پھیلائے گا۔آنحضرت ﷺ کے دو بعث ہیں۔۔۔۔دوسرا بعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں آیت ہے وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَّأْتِي مِنْ بَعْدِى (تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 254) اسْمُهُ أَحْمَدُ خلیفہ اللہ اور خاتم الخلفاء ہونے کے اعتبار سے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِي شَيْئًا وَّ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْفَسِقُوْنَ (النور: 56) اور جب آیات مروجہ بالا کو غور سے دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کے اندر سے یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ ضرور آخری خلیفہ اس امت کا جو چودھویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا حضرت مسیح کی صورت مثالی پر آئیگا اور بغیر آلات حرب ظہور کرے گا۔دو سلسلوں کی مماثلت میں یہی قاعدہ ہے کہ اول اور آخر میں اشد درجہ کی مشابہت ان میں ہوتی ہے کیونکہ ایک لمبے سلسلہ اور ایک طولانی مدت میں تمام درمیانی افراد کا مفصل حال معلوم کرنا طول بلا طائل ہے۔پس جبکہ قرآن کریم نے صاف صاف بتلا دیا کہ خلافت اسلامی کا سلسلہ اپنی ترقی اور تنزل اپنی جلالی اور جمالی حالت کی رو سے خلافت اسرائیلی سے بکلی مطابق ومشابہ ومماثل ہوگا اور یہ بھی بتلا دیا کہ بی عربی امی مثیل موسیٰ ہے تو اس ضمن میں قطعی اور یقینی طور پر بتلایا