حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 218 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 218

218 گروہ آخرین سے حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت مراد ہے اگر چہ زمانہ فیج اعوج میں بھی جماعت کثیر گمراہوں کے مقابل نیک اور اہل اللہ اور ہر صدی کے سر پر مجدد بھی ہوتے رہے ہیں لیکن جس منطوق آیت ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ خالص محمدی گروہ ایک پلید ملونی اور آمیزش سے پاک اور تو بہ نصوح سے غسل دیئے ہوئے ایمان اور دقائق عرفان اور علم اور عمل اور تقویٰ کے لحاظ سے ایک کثیر التعداد جماعت ہے۔یہ اسلام میں صرف دو گروہ ہیں یعنی گروہ اولین و گروه آخیرین جو صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت سے مراد ہے۔اس لئے اس سورہ فاتحہ ) میں انعَمتَ عَلَيْهِمُ کے فقرہ سے مراد یہی دونوں گروہ ہیں یعنی آنحضرت ﷺ مع اپنی جماعت کے اور مسیح موعود مع اپنی جماعت کے۔خلاصہ کلام یہ کہ خدا نے ابتداء سے اس امت میں دو گروہ ہی تجویز فرمائے ہیں اور انہی کی طرف سورہ فاتحہ کے فقرہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں اشارہ ہے (۱) ایک اولین جو جماعت نبوی ہے (۲) دوسرے آخرین جو جماعت مسیح موعود ہے اور افراد کاملہ جو درمیانی زمانہ میں ہیں جو فیج اعوج کے نام سے موسوم ہے جو بوجہ اپنی کمی مقدار اور کثرت اشرار و فجار و هجوم افواج بد مذاهب و بد عقائد و بداعمال شاذ و نادر کے حکم میں سمجھے گئے گو دوسرے فرقوں کی نسبت درمیانی زمانہ کے صلحائے امت محمدیہ بھی باوجود طوفان بدعات کے ایک دریائے عظیم کی طرح ہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ- جلد 17 صفحہ 225-226) ہر کہ در عهدم زمن ماند جدا می کند بر نفس خود جور و جفا جو میرے زمانہ میں مجھ سے جدا رہتا ہے تو وہ خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے ز نور دلستاں شد سینه ام شد ز دستے صیقل آئینه ام محبوب کے نور سے میرا سینہ بھر گیا میرے آئینہ کا صیقل اسی کے ہاتھ نے کیا پیکرم شد پیکر کار من شد کار دلدار ازل میرا وجود اس یار ازلی کا وجود بن گیا اور میرا کام اس دلدار قدیم کا کام ہو گیا بسکه جانم شد نہاں در یار من ہوئے یار آمد ازیں گلزار من چونکہ میری جان میرے یار کے اندر مخفی ہو گئی اس لئے یار کی خوشبو میرے گلزار سے آنے لگی نور حق داریم زیر چادرے از گریبانم بر آمد آمد دلبری ہماری چادر کے اندر خدا کا نور ہے وہ دلبر میرے گریبان میں سے نکلا پر یار ازل احمید آخر زمان نام من است آخریں جامے ہمیں جامِ من است احمد آخر زماں میرا نام ہے اور میرا جام ہی دنیا کے لئے آخری جام ہے ( در شین فارسی متر جم صفحه 239 ) ( سراج منیر۔۔۔خ۔جلد 12 صفحہ 101 )