حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 184 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 184

184 المغضوب علیھم سے وہ علماء یہودی مراد ہیں جنہوں نے شدت عداوت کی وجہ سے حضرت عیسی کی نسبت یہ بھی روانہ رکھا کہ ان کو مومن قرار دیا جائے بلکہ کا فر کہا اور واجب القتل قرار دیا اور مغضوب علیہ وہ شدید الغضب انسان ہوتا ہے جس کے غضب کے غلو پر دوسرے کو غضب آوے اور یہ دونوں لفظ باہم مقابل واقع ہیں یعنی ضالین وہ ہیں جنہوں نے افراط محبت سے حضرت عیسی کو خدا بنایا اور المغضوب علیہم وہ یہودی ہیں جنہوں نے خدا کے مسیح کو افراط عداوت سے کافر قرار دیا اس لئے مسلمانوں کو سورۃ فاتحہ میں ڈرایا گیا اور اشارہ کیا گیا کہ تمہیں یہ دونوں امتحان پیش آئیں گے مسیح موعود آئے گا اور پہلے مسیح کی طرح اس کی بھی تکفیر کی جائینگی اور ضالین یعنی عیسائیوں کا غلبہ بھی کمال کو پہنچ جائے گا جو حضرت عیسی کو خدا کہتے ہیں تم ان دونوں فتنوں سے اپنے تیں بچاؤ اور بچنے کے لئے نمازوں میں دعائیں کرتے رہو۔(تحفہ گولڑی۔رسرخ جلد 17 صفحہ 269 حاشیه در حاشیه ) امت احمد نہاں دارد ، دو ضد را در وجود می تواند شد مسیحا، می تواند شد یهود احمد کی امت اپنے وجود میں دو مخالف با تیں مخفی رکھتی ہے۔( اُس کا فرد ) مسیح بھی بن سکتا ہے اور یہودی بھی زمرہ زیشاں، ہمہ بدطینتاں را جائے ننگ زمره دیگر، بجائے انبیاء دارد تعود ایک گروہ تو بدفطرت انسانوں کے لئے بھی جائے ننگ و عار ہے۔اور دوسرا گر وہ انبیاء کا جانشین ہے در مشین فارسی مترجم حضرت میر محمد اسمعیل صاحب صفحہ 151) (ازالہ اوہام حصہ دوم۔رخ جلد 3 صفحہ 512) غير المغضوب عليهم ولا الضالین میں ایک لعلیم ہے کتاب اللہ کو کھول کر دیکھ لو وہ فیصلہ کرتی ہے ؟ پہلی ہی سورۃ کو پڑھو جو سورۃ فاتحہ ہے جس کے بغیر نماز بھی نہیں ہوسکتی دیکھو اس میں کیا تعلیم دی ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَالضَّالِّينَ اب صاف ظاہر ہے کہ اس دعا میں مغضوب اور ضالین کی راہ سے بچنے کی دعا ہے۔مغضوب سے بالا تفاق یہودی مراد ہیں اور ضالین سے عیسائی۔اگر اس امت میں یہ فتنہ اور فساد پیدا نہ ہونے والا تھا تو پھر اس دعا کی تعلیم کی کیا غرض تھی؟ سب سے بڑا فتنہ تو الدجال کا تھا مگر یہ نہیں کہا وَلَا الدجال کیا خدا تعالیٰ کو اس فتنہ کہ خبر تھی ؟ اصل یہ ہے کہ یہ دعا بڑی پیشگوئی اپنے اندر رکھتی ہے ایک وقت امت پر ایسا آنے والا تھا کہ یہودیت کا رنگ اس میں آجا ویگا اور یہودی وہ قوم تھی جس نے حضرت مسیح کا انکار کیا تھا۔پس یہاں جو فرمایا کہ یہودی سے بچنے کی دعا کرو۔اس کا یہی مطلب ہے کہ تم بھی یہودی نہ بن جانا یعنی مسیح موعود کا انکار نہ کر بیٹھنا۔اور ضالین یعنی نصاری کی راہ سے بچنے کی دعا جو تعلیم کی تو اس سے معلوم ہوا کہ اُس وقت صلیبی فتنہ خطر ناک ہوگا اور یہی سب فتنوں کی جڑ اور ماں ہوگا دجال کا فتنہ اس سے الگ نہ ہوگا۔ورنہ اگر الگ ہوتا تو ضرور تھا کہ اس کا بھی نام لیا جاتا۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 382)