حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 183
183 الصَّالِينَ معانی الصَّالِينَ ضالین سے مراد صرف گمراہ نہیں بلکہ وہ عیسائی مراد ہیں جو افراط محبت کی وجہ سے حضرت عیسی کی شان میں غلو کرتے ہیں کیونکہ ضلالت کے یہ بھی معنے ہیں کہ افراط محبت سے ایک شخص کو ایسا اختیار کیا جائے کہ دوسرے کا عزت کے ساتھ نام سننے کی بھی برداشت نہ رہے جیسا کہ اس آیت میں بھی یہی معنے مراد ہیں کہ إِنَّكَ لَفِي ضَلَالَكَ الْقَدِيمِ (يوسف: 11) - تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 269 حاشیه در حاشیه ) الصَّالِین اور دجال سے مراد عیسائی ہیں۔بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے ابتداء میں بھی ان ( عیسائیوں ) کا ہی ذکر کیا جیسے کہ وَلَا الضَّالِين پر سورۃ فاتحہ کو ختم کیا اور پھر قرآن شریف کو بھی اسی پر تمام کیا کہ قُلْ هُوَ الله سے لے کر قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ تک غور کرو اور وسط قرآن میں بھی ان کا ہی ذکر کیا اور تَكَادُ السَّمَوتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ (سورة مریم: 91) کہا۔بتاؤ اس دجال کا بھی کہیں ذکر کیا جس کا ایک خیالی نقشہ اپنے دلوں میں بنائے بیٹھے ہیں۔پھر حدیث میں آیا ہے کہ دجال کیلئے سورۃ کہف کی ابتدائی آیتیں پڑھو اس میں بھی ان کا ہی ذکر ہے۔اور احادیث میں ریل کا بھی ذکر ہے۔غرض جہاں تک غور کیا جاوے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ امر ذہن میں آجاتا ہے کہ دجال سے مراد یہی نصاری کا گروہ ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 352) آخری مظہر شیطان کے اسم دجال کا جو مظہر اتم اور اکمل اور خاتم المظا ہر ہے وہ قوم ہے جس کا قرآن کے اول میں بھی ذکر ہے اور قرآن کے آخر میں بھی یعنی وہ ضالین کا فرقہ جس کے ذکر پر سورۃ فاتحہ ختم ہوتی ہے اور پھر قرآن شریف کی آخری تین سورتوں میں بھی اس کا ذکر ہے یعنی سورۃ اخلاص اور سورۃ فلق اور سورۃ ناس میں سورۃ فلق میں یہ اشارہ کیا گیا کہ یہ قوم اسلام کے لئے خطرناک ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 269 تا272 حاشیہ) حضرت اقدس کا ذکر قرآن کریم میں وَلَا الضَّالِّينَ کے اعتبار سے صرف قرآن کا ترجمہ اصل میں مفید نہیں جب تک اس کے ساتھ تفسیر نہ ہومثلا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِینَ۔کی نسبت کسی کو کیا سمجھ آ سکتا ہے کہ اس سے مراد یہود نصاری ہیں جب تک کہ کھول کر نہ بتلا یا جاوے اور پھر یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی۔اس کا یہی منشا تھا کہ جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح کا انکار کر کے خدا کا غضب کمایا۔ایسے ہی آخری زمانہ میں اس امت نے بھی مسیح موعود کا انکار کر کے خدا کا غضب کمانا تھا۔اسی لئے اول ہی ان کو بطور پیشگوئی کے اطلاع دی گئی کہ سعید روحیں اس وقت غضب سے بچ سکیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 449 )