حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 163
163 پھر خدا جانے کہ کب آدیں یہ دن اور یہ بہار مجھ کو خود اس نے دیا ہے چشمہ توحید پاک تا لگاوے از سر نو باغ دیں میں لالہ زار دوش پر میرے وہ چادر ہے کہ دی اُس یار نے پھر اگر قدرت ہے اے منکر تو یہ چادر اُتار خیرگی سے بدگمانی اس قدر اچھی نہیں ان دنوں میں جبکہ ہے شور قیامت آشکار ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش پر نوح کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہو رستگار صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی دیوار دیں اور مامن اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بفرق این جدار سے ہے چلی توحید خالق کی ہوا دل ہمارے ساتھ ہیں گومُنہ کریں بک بک ہزار إِسْمَعُوا صَوْتَ السَّمَاءَ جَاءَ المسيح جَاءَ المسيح نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار آسمان بارد نشان الوقت مے گوید زمیں این دو شاہد از پئے من نعره زن چوں بیقرار اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے وقت ہے جلد آؤ اے آوارگان دشت خار اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خُدا جانے کہ کب آدیں یہ دن اور یہ بہار در تمین اردو صفحہ 122 نیا ایڈیشن) (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 132) آسمان ہماری بعثت کی علت غائی بھی تو یہی ہے کہ رستہ منزل جاناں کے بھولے بھٹکوں ، دل کے اندھوں جزام ضلالت کے مبتلاؤں۔ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے کو رباطنوں کو صراط مستقیم پر چلا کر وصالِ ذات ذوالجلال کا شیریں جام پلایا جاوے اور عرفانِ الہی کے اس نقطہ انتہائی تک اُن کو پہنچایا جاوے تا کہ اُن کو حیات ابدی و راحتِ دائمی نصیب ہو اور جوارِ رحمت ایزدی میں جگہ لے کر مست و سرشارر ہیں۔ہماری معیت اور رفاقت کی پاک تاثیرات کے ثمرات حسنہ بالکل صاف ہیں۔ہاں ان کے ادراک کے لئے فہیم رسا چاہیئے۔ان کے حصول کے لئے رُشد و صفا چاہیئے۔ساتھ ہی استقامت کے لئے انتقا چاہیئے ورنہ ہماری جانب سے تو چار دانگ کے عالم کے کانوں میں عرصہ سے کھول کھول کر منادی ہو رہی ہے۔بیامدم که ره صدق را درخشانم صدق را درخشانم بدلستاں بُرم آنرا که پارسا باشد کیکہ سایہ بال ہماش سود نداد بیایدش که دو روزے بظل ما باشد گلے کہ روئے خزاں راگہے نخواهد دید بباغ ماست اگر قسمت رسا باشد (ترجمہ:۔میں اس لئے آیا ہوں کہ صدق کی راہ کو روشن کروں اور دلبر کے پاس لے چلوں جو نیک و پارسا ہے۔وہ شخص جسے بال ہما نے بھی فائدہ نہ دیا ہو۔اسے چاہئے کہ دو دن ہمارے زیر سایہ رہے۔وہ پھول جو کبھی خزاں کا منہ نہیں دیکھے گا۔وہ ہمارے باغ میں ہے اگر تیری قسمت یا ور ہو۔) ہم نے تو اس مائدہ الہی کو ہر کس و ناکس کے آگے رکھنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑ ا مگر آگے اُن کی اپنی قسمت - وما علینا الا البلاغ - ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 466) اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی کہ تم پنج وقت نمازوں میں یہ دعا پڑھا کرو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے ہمارے خدا اپنے منعم علیہم بندوں کی ہمیں راہ بتا وہ کون ہیں نبی اور صدیق اور شہید اور صلحاء۔اس دعا کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چاروں گروہوں میں سے جس کا زمانہ تم پاؤ اُس کے سایہ صحبت میں آجاؤ اور اُس سے فیض حاصل کرو۔( آئینہ کمالات اسلام - رخ جلد 5 صفحہ 612)