حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page xix of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xix

xvi حضرت اقدس کے فرمودات سے یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ کے تمام روحانی مناصب اور آپ کے دعاوی دراصل اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت کے ثبوت اور استحکام کی غرض سے عطا کئے گئے ہیں۔آپ ہی کے دین اور آپ ہی کے قرآن اور آپ ہی کی نبوت اور اسوہ حسنہ کو زندہ کرنے کی خدمت بطور ظل اور بروز آپ کے سپرد کی گئی ہے۔یہ ایک کامل اتحاد ہے جس کے بیان میں حضرت اقدس فرماتے ہیں۔و انزل الله على فيض هذا الرسول۔فاتمه و اكمله و جذب الى لطفه وجوده حتى صارا وجودى وجوده۔فمن دخل في جماعتي دخل في صحابة سيدخير المرسلين۔و هذا هو معانی " و آخرين منهم كما لا يخفى على المتدبرين و من فرق بيني و بين المصطفى فما (خطبہ الہامیہ۔رخ جلد 16 صفحہ 259 258) عرف و ما رای ترجمہ: خدا نے مجھ پر اس رسول کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا۔اور نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا۔پس جو میری جماعت میں داخل ہوا وہ درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔اور یہی معانی اخَرِينَ مِنْهُمُ کے ہیں۔جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔اور جو شخص مجھ میں اور رسول اکرم میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا۔اس کامل اتحاد اور یگانگت کو قائم کرنے کی ضرورت کے بیان میں فرماتے ہیں۔چونکہ آنحضرت ﷺ کا حسب آیت اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ) دوبارہ تشریف لا نا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا۔اس لئے آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خو میں اور ہمدردی خلائق میں آپ کے مشابہہ تھا۔اور مجازی طور پر نام محمد اور احمد اس کو عطا کیا تا کہ یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 263) ان فرمودات کی روشنی میں یہ امر تو لازم قرار پاتا ہے کہ آنحضرت کے دین کی نشاۃ ثانیہ کے لئے آپ حضرت کو وہی عرفان قرآن عطا کیا جاتا جو آپ کے آقا اور مطاع کو عطا کیا گیا تھا اور آپ کو وہی روحانی قرب اور اسوۂ حسنہ عطا کیا جاتا جس کو زندہ کرنے کی خدمت آپ کے سپرد ہوئی تھی۔کیونکہ جہاں مقاصد میں با ہم اشتراک ہو وہاں ان کے حصول کی خاطر قابلیت اور استعداد میں اشتراک اور اتحاد ایک لازم امر ہے۔وو اس حقیقت کو حضرت اقدس نے بہت خوب بیان کیا ہے۔فرماتے ہیں۔اس جگہ یہ یہ بھی یادر ہے کہ جب مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے۔اس وجہ سے کہ ہمارا آقا اور مخدوم تمام دنیا کے لئے آیا تھا تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی دی گئی ہیں جو اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے ضروری تھیں۔اور وہ معارف اور نشان بھی دیئے گئے ہیں جن کا دیا جانا اتمام حجت کے لئے مناسب وقت تھا۔(حقیقۃ الوحی - ر-خ- جلد 22 صفحہ 155)