حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xviii
XV آپ کا اول منصب اور دعویٰ مہدی معہود ہونے کا ہے۔اور دوسرا منصب اور دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے۔فرماتے ہیں۔مجھے خدا کی پاک اور مطہر وجی سے اطلاع دی گئی ہے کہ میں اس کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں۔“ اربعین - ر- خ جلد 7 صفحہ 346 345) اول دعویٰ یعنی مہدی معہود کی ذیل میں جو جلیل القدر مناصب آتے ہیں ان میں سرخیل کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ ہے۔اور پھر درجہ بدرجہ آنحضرت کے اسم احمد کی تجلی۔وارث رسول اکرم نائب رسول اکرم اور دین اسلام میں حکم و عدل ہونے اور چودھویں صدی کے مجد داسلام ہونے کے دعاوی ہیں جو کہ بنیادی اور اساسی ہیں۔دوسرا منصب عالیہ یعنی دعوی بی موعود کی ذیل میں جو مناصب آتے ہیں وہ مثیل مسح علیہ السلام اور کا ر صلیب کے دعاوی ہیں۔آپ حضرت نے ان سب دعاوی کو ایک ہی مقام پر ایسے بیان کیا ہے۔فرماتے ہیں۔ازیں بود که چوں سال صدی تمام شود برآید آنکه بدین نائب خدا باشد که او مجدد این دین و راهنما باشد رسید مژده زعیم کہ من ہماں مردم منم مسیح ببانگ بلند می گویم منم خلیفہ شا ہے کہ برسا باشد موید یکه مسیحا دم ست و مهدی وقت بشان او دگرے کے ز اتقیاء باشد منم مسیح زمانم منم کلیم خدا منم محمد و احمد که مجتبی باشد خنم ایکہ سخت بے خبری که اینکه گفته ام از وحی کبریا باشد تریاق القلوب - رخ جلد 15 صفحہ 134-132) ترجمہ: ا۔یہی وجہ ہے کہ جب صدی کے سال ختم ہوتے ہیں تو ایسا مرد ظاہر ہوتا ہے جو دین کے لئے خدا کا قائمقام ہوتا ہے۔۲۔مجھے غیب سے یہ خوشخبری ملی ہے کہ میں وہی انسان ہوں جو اس دین کا مجد داور راہ نما ہے۔۳۔میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ میں ہی مسیح ہوں اور میں ہی اس بادشاہ کا خلیفہ ہوں جو آسمان پر ہے۔۔وہ تائید یافتہ شخص جو مسیحادم اور مہدی وقت ہے اس کی شان کو اتقیا میں سے کوئی نہیں پہنچ سکتا۔۵۔میں ہی مسیح وقت ہوں اور میں ہی کلیم خدا ہوں میں ہی وہ محمد اور احمد ہوں جو جنتی ہے۔اے وہ شخص جو بالکل بے خبر ہے میری بات سے ناراض نہ ہو کہ جو میں نے کہا ہے یہ خدا کی وحی سے کہا ہے۔یہ وہ مناصب عالیہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا کئے گئے۔اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ ان روحانی مناصب کے حامل ہونے کا دعوی کریں اور تمام دنیا کی سعید روحوں سے ان کی تصدیق پر بیعت لیں۔