حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 154 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 154

154 صدیق کے کمال کے حصول کا فلسفہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی کمزوری اور ناداری کو دیکھ کر اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے اور صدق اختیار کرتا اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے اور ہر قسم کے رجس اور پلیدی سے جو جھوٹ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔دور بھاگتا ہے اور عہد کر لیتا ہے کہ کبھی جھوٹ نہ بولوں گا جھوٹی گواہی نہ دوں گا۔اور نہ جذ بہ نفسانی کے رنگ میں کوئی جھوٹا کلام کرونگا۔نہ لغوطور پر نہ کسب خیر اور نہ دفع شر کے لئے یعنی کسی رنگ اور حالت میں بھی جھوٹ کو اختیار نہیں کروں گا۔جب اس حد تک وعد و کرتا ہے۔تو گویا ايَّاكَ نَعْبُدُ پر وہ ایک خاص عمل کرتا ہے اور اس کا وہ عمل اعلیٰ درجہ کی عبادت ہوتی ہے ایساكَ نَعْبُدُ سے آگے إِيَّاكَ نَسْتَعِین ہے۔خواہ یہ اس کے مونہہ سے نکلے یا نہ نکلے لیکن اللہ تعالیٰ جو مبدء الفیوض اور صدق اور راستی کا سر چشمہ ہے اس کو ضرور مدد دے گا۔اور صداقت کے اعلیٰ اصول اور حقائق اس پر کھول دیگا۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 242-243) استعانت کے متعلق یہ بات یاد رکھنا چاہیئے کہ اصل استمداد کا حق اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور اسی پر قرآن کریم نے زور دیا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پہلے صفات الى رب ، رحمان، رحیم ، مالک یوم الدین کا اظہار فرمایا۔پھر سکھایا کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی عبادت بھی تیری کرتے ہیں اور استمداد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ اصل حق استمداد کا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔کسی انسان، حیوان، چرند، پرند، غرضیکہ کسی مخلوق کے لئے نہ آسمان پر نہ زمین پر یہ حق نہیں ہے۔مگر ہاں دوسرے درجہ پر ظلمی طور سے یہ حق اہل اللہ اور مردان خدا کو دیا گیا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 340) دعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے۔اور یہی معانی اس دعا کے ہیں۔پہلے لازم ہے کہ انسان اپنے اعتقاد اعمال میں نظر کرے۔کیونکہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ اصلاح اسباب کے پیرا یہ میں ہوتی ہے۔وہ کوئی نہ کوئی ایسا سبب پیدا کر دیتا ہے کہ جو اصلاح کا موجب ہو جاتا ہے وہ لوگ اس مقام پر ذرا خاص غور کریں جو کہتے ہیں کہ جب دعا ہوئی تو اسباب کی کیا ضرورت ہے۔وہ نادان سوچیں کہ دعا بجائے خود ایک مخفی سبب ہے جو دوسرے اسباب کو پیدا کر دیتا ہے اور إِيَّاكَ نَعْبُدُ کا تقدم إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر جو کلمہ دعائیہ ہے۔اس امر کی خاص تشریح کر رہا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 78) اس سورۃ میں جس کا نام خاتم الکتاب اور ام الکتاب بھی ہے صاف طور پر بتا دیا کہ انسانی زندگی کا کیا مقصد ہے اور اس کے حصول کی کیا راہ ہے؟ إِيَّاكَ نَعْبُدُ گویا انسانی فطرت کا اصل تقاضا اور منشاء ہے اور اسے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر مقدم کر کے یہ بتایا ہے کہ پہلے ضروری ہے کہ جہاں تک انسان کی اپنی طاقت ، ہمت اور سمجھ میں ہو خدا تعالیٰ کی رضا مندی کی راہوں کے اختیار کرنے میں سعی اور مجاہدہ کرے اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں سے پورا کام لے اور اس کے بعد پھر خدا تعالیٰ سے اس کی تکمیل اور نتیجہ خیز ہونے کے لئے دعا کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 235)