حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 153
153 ترجمہ اور معانی إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ چھٹی صداقت جو سورۃ فاتحہ میں مُندرج ہے۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اے صاحب صفات کا ملہ اور مبدء فیوض اربعہ ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور پرستش وغیرہ ضرورتوں اور حاجتوں میں مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں یعنی خالصاً معبود ہمارا تو ہی ہے اور تیرے تک پہنچنے کے لیے کوئی اور دیوتا ہم اپنا ذریعہ قرار نہیں دیتے نہ کسی انسان کو نہ کسی بہت کو نہ اپنی عقل اور علم کو کچھ حقیقت سمجھتے ہیں اور ہر بات میں تیری ( براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 525-526 حاشیہ نمبر 11) ذات قادر مطلق سے مدد چاہتے ہیں۔معانی و تفسیر - إِيَّاكَ نَعْبُدُ اعْلَمُ أَنَّ حَقِيقَةَ الْعِبَادَةِ الَّتِي يَقْبَلُهَا الْمَوْلَى بِاسْتِنَانِهِ هِيَ التَّذَلُّلُ النَّامُ بِرُؤْيَةِ عَظُمَتِهِ وَعُلُوّ شَأْنِهِ وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ بَمُشَاهَدَةِ مِنَيْهِ وَأَنْوَاعِ إِحْسَانِهِ وَإِيْثَارُهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ بِمَحَبَّةِ حَضْرَتِهِ وَتَصَوُّرٍ مَحَامِدِهِ وَجَمَالِهِ وَلَمَعَانِهِ وَتَطْهِيرُ الْجَنَانِ مِنْ وَ سَاوِسِ الْجِنَّةِ نَظَرًا إِلَى جَنَانِهِ - واضح ہو کہ اس عبادت کی حقیقت جسے اللہ تعالیٰ اپنے کرم و احسان سے قبول فرماتا ہے۔وہ در حقیقت چند امور پر مشتمل ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی بلند و بالا شان کو دیکھ کر مکمل فروتنی اختیار کرنا نیز اس کی مہربانیاں اور قسم قسم کے احسان دیکھ کر اس کی حمد وثنا کرنا اس کی ذات سے محبت رکھتے ہوئے اور اس کی خوبیوں جمال اور نور کا تصور کرتے ہوئے اسے ہر چیز پر ترجیح دینا اور اس کی جنت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے دل کو شیطانوں کے وسوسوں سے پاک کرنا ہے۔(اعجاز امسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 165) جب انسان إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہہ کر صدق اور وفاداری کے ساتھ قدم اٹھاتا ہے تو خدا تعالیٰ ایک بڑی نہر صدق کی کھول دیتا ہے جو اس کے قلب پر آکر گرتی ہے اور اسے صدق سے بھر دیتی ہے وہ اپنی طرف سے بضاعتہ مزجاة لاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اعلی درجہ کی گراں قدر جنس اس کو عطا کرتا ہے اور اس سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس مقام میں انسان یہاں تک قدم مارے کہ وہ صدق اس کے لیے ایک خارق عادت نشان ہو۔اس پر اس قدر معارف اور حقائق کا در یا کھلتا ہے اور ایسی قوت دی جاتی ہے کہ ہر شخص کی طاقت نہیں ہے کہ اس کا مقابلہ کرے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 253) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں فاصلہ کوئی نہیں ہے۔ہاں إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں ایک قسم کا تقدم زمانی ہے کیونکہ جس حال میں محض اپنی رحمانیت سے بغیر ہماری دعا اور درخواست کے ہمیں انسان بنایا اور انواع و اقسام کی قوتیں اور نعمتیں عطا فرمائیں۔اُس وقت ہماری دعا نہ تھی۔بلکہ محض اُس کا فضل ہمارے شامل حال تھا۔اور یہی تقدم ہے۔لملفوظات جلد اول صفحہ 127)