حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 137
137 وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ كُلَّ كَمَالٍ مِّنْ كَمَالَاتِ الاخْلَاقِ الْإِلَهِيَّةِ مُنْحَصِرٌ فِي كَوْنِهِ رَحْمَانًا وَّرَحِيمًا وَلِذَالِكَ خَصَّهُمَا اللهُ بِالْبَسْمَلَةِ - وَعَلِمْتَ أَنَّ اسْمَ مُحَمَّدٍ وَأَحْمَدَ قَدْ أَقِيمَا مَقَامَ الرَّحْمَانِ وَالرَّحِيمِ وَأَوْدِعَهُمَا كُلُّ كَمَالٍ كَانَ مَخْفِيَّا فِي هَاتَيْنِ الصِّفَتَيْنِ مِنَ اللَّهِ الْعَلِيمِ الْحَكِيمِ فَلَا شَكَ أَنَّ اللهَ جَعَلَ هُدَيْنِ الْإِسْمَيْنِ ظِلَّيْنِ لِصِفَتَيْهِ وَمَظْهَرَيْنِ لِسِيْرَتَيْهِ لِيُرِىَ حَقِيقَةَ الرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ فِى مِرَاةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ وَالْأَحْمَدِيَّةِ - ثُمَّ لَمَّا كَانَ كُمَّلُ أُمَّتَهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ أَجْزَاءِ وَ الرُّوْحَانِيَّةِ وَكَالْجَوَارِحِ لِلْحَقِيقَةِ النَّبَوِيَّةِ اَرَادَ اللَّهُ لإبقاء اثار هذا النَّبِيِّ المَعْصُومِ أَن يُوَرِثَهُمْ هذَيْنِ الْإِسْمَيْنِ كَمَا جَعَلَهُمْ وَرَثَاءَ الْعُلُومِ فَأَدْخَلَ الصَّحَابَةَ تَحْتَ ظِلَّ اسْمِ مُحَمَّدِ الَّذِي هُوَ مَظْهَرُ الْجَلَالِ وَأَدْخَلَ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدَ تَحْتَ اسْمِ أَحْمَدَ الَّذِي هُوَ مَظْهَرُ الْجَمَالٍ وَمَا وَجَدَ هَؤُلَاءِ هَذِهِ الدَّوْلَةَ إِلَّا بِالظَّلِيَّةِ فَإِذَن مَّا ثَمَّ شَرِيكَ عَلَى الْحَقِيقَةِ - وَكَانَ غَرَضُ اللَّهِ مِنْ تَقْسِيمِ هَذَيْنِ الْإِسْمَيْنِ أن يُفَرِّقَ بَيْنَ الْأُمَّةِ وَيَجْعَلَهُمْ فَرِيقَيْنِ فَجَعَلَ فَرِيقًا مِّنْهُمْ كَمِثْلِ مُوسَى مَظْهَرِ الْجَلَالِ - وَهُمْ صَحَابَةُ النَّبِيِّ الَّذِينَ تَصَدَّوْا أَنْفُسَهُمْ لِلْقِتَالِ وَجَعَلَ فَرِيقًا مِّنْهُمْ كَمِثْلِ عِيسَى مَظْهَرَ الْجَمَالِ وَجَعَلَ قُلُوبَهُمْ لَيْنَةٌ وَأَوْدَعَ السّلمَ صُدُورَهُمْ وَأَقَامَهُمْ عَلَى أَحْسَنِ الْخِصَالَ - وَهُوَ الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُ مِنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَال کے اور آپ کو معلوم ہے کہ اخلاق الہیہ کا ہر کمال اللہ تعالیٰ کے رحمان و رحیم ہونے پر منحصر ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں صفات کو بسم اللہ کے ساتھ مخصوص کر دیا۔اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ محمد اور احمد نام الرحمن الرحیم“ کے مظہر ہیں اور ہر کمال جو ان دونوں صفات الہیہ میں مخفی تھا وہ علیم حکیم خدا کی طرف سے ( محمد اور احمد کے ) دونوں ناموں میں ودیعت کر دیا گیا ہے۔پس بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں ناموں ( محمد اور احمد ) کو اپنی دونوں صفات کے حل اور اپنی دونوں سیرتوں کے مظہر ٹھہرایا ہے۔تاکہ رحمانیت اور رحیمیت کی حقیقت کو محمدیت اور احمدیت کے آئینہ میں دکھائے۔پھر جبکہ آنحضرت ﷺ کی امت کے کامل افراد جو آنحضرت ﷺ کی روحانیت کے اجزاء اور حقیقت نبویہ کے اعضاء کی طرح ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ اس نبی معصوم آثار کو باقی رکھنے کیلئے انہیں (امت کے کامل افراد کو ) بھی اسی طرح ان دونوں ناموں کا وارث بنائے جیسے اس نے انہیں علوم نبویہ کا وارث بنایا ہے پس اس نے صحابہ کو اسم محمد کے کل کی ذیل میں داخل کر دیا جو اسم کے جلال کا مظہر ہے اور مسیح موعود کو اسم احمد کے ذیل میں داخل کر دیا جو جمال کا مظہر ہے اور ان سب نے اس دولت کو محض ظلیت کے طور پر پایا ہے۔پس حقیقت کی رو سے اس مقام پر خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور ان دونوں ناموں کی تقسیم سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہی تھی کہ وہ امت کو تقسیم کرے اور اس کے دو گروہ کر دے۔پس اس نے ان میں سے ایک گروہ کو حضرت موسی مظہر جلال کی مانند بنایا اور وہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ ہیں جنہوں نے جہاد کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تھا۔اور ایک گروہ کو حضرت عیسی مظہر جمال کی مانند بنایا اور ان کو دل کا حلیم بنایا۔ان کے سینوں میں صلح جوئی ودیعت کی اور ان کو اعلیٰ اخلاق پر قائم کیا اور امت کا یہ گروہ مسیح موعود اور اس کے متبعین ہیں خواہ مرد ہوں یا عورتیں۔اعجاز ایج۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 123 تا 125)