حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 136 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 136

136 اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو صفت رحیمیت یعنی اسم احمد کا وارث بنایا ہے وَلَا رَيْبَ أَنَّ نَبِيَّنَا سُمِّيَ مُحَمَّدًا لِّمَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَهُ مَحْبُوبًا فِى أَعْيُنِه وَأَعْيُن الصَّالِحِين - وَكَذَالِكَ سَمَّاهُ أَحْمَدَ لِمَا أَرَادَ سُبْحَانَهُ أَنْ يَجْعَلَهُ مُحِبَّ ذَاتِهِ وَمُحِـ الْمُؤْمِنِينَ الْمُسْلِمِيْنَ - فَهُوَ مُحَمَّدٌ بِشَأن وَ أَحْمَدُ بِشَأن وَاخْتُصَّ أَحَدُ هَذَيْنِ الْإِسْمَيْنِ بِزَمَان وَالْآخَرُ بِزَمَانٍ وَقَدْ أَشَارَ إِلَيْهِ سُبْحَانَهُ فِي قَوْلِهِ ” دَنَى فَتَدَلَّى وَفِي ” قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - ثُمَّ لَمَّا كَانَ يُظَنُّ أَنَّ اخْتِصَاصَ هذَا النَّبِيِّ المُطَاعِ السَّجَادِ بِهَذِهِ الْمَحَامِدِ مِنَ رَّبِّ الْعِبَادِ يَجُرُّ إِلَى الشِّرْكِ كَمَا عُبِدَ عِيسَى لِهَذَا الْإِعْتِقَادِ - أَرَادَ اللَّهُ أَن يُوْرِثَهُمَا الْأُمَّةَ الْمَرْحُوْمَةَ عَلَى الطَّرِيقَةِ الظَّلِّيَّةِ لِيَكُونَا لِلْأُمَّةِ كَالْبَرَكَاتِ الْمُتَعَدِ يَةِ - وَلِيَزُولَ وَهُمُ اشْتِرَاكِ عَبْدِ خَاصِ فِي الصَّفَاتِ الْإِلَهِيَّةِ - فَجَعَلَ الصَّحَابَةَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مَظْهَرَ اسْمِ مُحَمَّدٍ بِالسُّتُونِ الرَّحْمَانِيَّةِ الْجَلَالِيَّةِ - وَجَعَلَ لَهُمْ غَلَبَةٌ وَنَصَرَهُمْ بِالْعِنَايَاتِ الْمُتَوَالِيَّةِ - وَجَعَلَ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدَ مَظْهَرَ اسْمِ أَحْمَدَ وَبَعَثَهُ بِالسُّتُونِ الرَّحِيمِيَّةِ الْجَمَالِيَّةِ - وَكَتَبَ فِي قَلْبِهِ الرَّحْمَةَ وَالتَّحَنُنَ وَهَذَ بَهُ بِالْأَخْلَاقِ الْفَاضِلَةِ الْعَالِيَةِ - فَذَالِكَ هُوَ الْمَهْدِيُّ الْمَعْهُودُ الَّذِي فِيْهِ يَخْتَصِمُوْنَ - وَقَدْ رَءَ وُا الْآيَاتِ ثُمَّ لَا يَهْتَدُونَ - وَيُصِرُّونَ عَلَى الْبَاطِلِ وَإِلَى الْحَقِّ لَا يَرْجِعُوْنَ وَذَلِكَ هُوَا لْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَعْرِفُونَ - پس بلا شبہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کا نام اس لئے محمد رکھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا کہ آپ کو اپنی نگاہ میں بھی اور صالح لوگوں کی نظر میں بھی محبوب بنائے۔اور ایسا ہی آپ کا نام احمد اس لئے رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی ذات اور مومن مسلمانوں سے محبت کرنے والے ہوں۔پس آپ ایک پہلو سے محمد ہیں اور ایک پہلو سے احمد ہیں۔اور ان دونوں ناموں میں سے ( ظہور کامل کے لحاظ سے ) ایک نام کو ایک زمانہ سے مخصوص کیا گیا اور دوسرے نام کو دوسرے زمانہ سے۔اور اللہ تعالیٰ نے آیت دَنَی فَتَدَلَّى (النجم : 9) اور آیت قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْأَدْنى (النجم : 10 ) میں اسی ( محبوبیت اور محبیت کے مضمون ) کی طرف اشارہ کیا ہے۔پھر چونکہ یہ گمان پیدا ہوسکتا تھا کہ نبی کریم ﷺ کو جولوگوں کے مطاع اور اللہ تعالیٰ کے بہت عبادت گزار ہیں پروردگار عالم کا ان دو صفات سے متصف کرنا لوگوں کو شرک کی طرف مائل کر سکتا ہے۔جیسا کہ ایسے ہی اعتقاد کی بناء پر حضرت عیسی" کو معبود بنالیا گیا۔سواللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ وہ امت مرحومہ کو بھی ( علی حسب مراتب ) ظلمی طور پر ان دونوں صفات کا وارث بنادے۔تا یہ دونوں نام امت کے لئے برکات جاریہ کا موجب بنیں۔اور تا صفات الہیہ میں کسی خاص بندہ کے شریک ہونے کا وہم بھی دور ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ نے آپ کے صحابہ اور بعد آنے والے مسلمانوں کو رحمانی اور جلالی شان کی بناء پر اسم محمد کا مظہر بنایا اور انہیں غلبہ عطا فرمایا۔اور متواتر عنایات سے ان کی مدد کی اور مسیح موعود کو اسم احمد کا مظہر بنایا اور اسے رحیمی اور جمالی صفات کے ساتھ مبعوث فرمایا اور اس کے دل میں رحمت اور شفقت رکھ دی اور اسے بلند اخلاق فاضلہ کے ساتھ آراستہ کیا۔اور یہ وہی مہدی معہود ہے جس کے بارے میں لوگ جھگڑتے ہیں اور جس کی صداقت کے نشانات دیکھ کر بھی سچائی قبول نہیں کرتے اور باطل پر اصرار کرتے ہیں اور حق کی طرف رجوع نہیں کرتے یہ وہی مسیح موعود ہے لیکن لوگ اسے نہیں پہچانتے۔(اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 109 تا111) یہ