حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 130 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 130

130 روحانی پرورش بھی خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے أَشَارَ اللهُ سُبْحَانَهُ فِي قَوْلِهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ “ إِلَى أَنَّهُ هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّمِنْهُ كُلُّ مَافِي السَّمَوَاتِ وَالَّا رُضِينَ - وَمِنَ الْعَالَمِيْنَ مَايُوجَدُ فِي الَّا رُضِينَ مِنْ زُمَرِ الْمُهْتَدِينَ وَطَوَآئِفِ الْغَاوِيْنَ وَ الضَّالِّينَ - فَقَدْ يَزِيدُ عَالَمُ الضَّلَالِ وَالْكُفْرِ وَالْفِسْقِ وَ تَرْكِ الْإِعْتِدَالِ حَتَّى يُملأ الارْضُ ظُلما وجورًا وَيَتْرُكُ النَّاسُ طُرُقَ اللَّهِ ذَا الْجَلَالِ - لَا يَفْهَمُونَ حَقِيْقَةَ الْعُبُودِيَّةِ - وَلَا يُؤدُّونَ حَقَّ الرُّبُوَبِيَّةِ - فَيَصِيرُ الزَّمَانُ كَاللَّيْلَةِ اللَّيْلَاءِ - وَيُدَاسُ الدِّينُ تَحْتَ هَذِهِ اللَّا وَآءِ - ثُمَّ يَأْتِي اللَّهُ بِعَالَمِ أَخَرَ فَتُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الَّا رُضِ وَ يَنزِلُ الْقَضَاءُ مُبَدَّ لَا مِّنَ السَّمَاءِ وَيُعْطى للنَّاسِ قَلْبٌ عَارِفٌ وَّلِسَانٌ نَّا طِقْ لِشُكُرِ النَّعْمَاءِ فَيَجْعَلُونَ نُفُوسَهُمْ كَمَوْرٍ مُعَبْدِ لِحَضْرَةِ الْكِبْرِيَاءِ وَيَأْتُونَهُ خَوْفًا وَّ رَجَاءً بِطَرْفٍ مَّغْضُوضٍ مِّنَ الْحَيَا ءِ - اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے قول رب العالمین میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے اور اس زمین پر جو بھی ہدایت یافتہ جماعتیں یا گمراہ اور خطا کارگر وہ پائے جاتے ہیں وہ سب عالمین میں شامل ہیں کبھی گمراہی کفر فستق اور اعتدال کو ترک کرنے کا عالم بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ زمین ظلم وجور سے بھر جاتی ہے اور لوگ خدائے ذوالجلال کے راستوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔نہ وہ عبودیت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور نہ ربوبیت کا حق ادا کرتے ہیں۔زمانہ ایک تاریک رات کی طرح ہو جاتا ہے اور دین اس مصیبت کے نیچے روندا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ ایک اور عالم لے آتا ہے تب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جاتی ہے۔اور ایک نئی تقدیر آسمان سے نازل ہوتی ہے۔اور لوگوں کو عارف (شناسا) دل اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے ناطق (گویا) زبانیں عطا ہوتی ہیں۔پس وہ اپنے نفوس کو خدا تعالیٰ کے حضور ایک پامال راستہ کی طرح بنا لیتے ہیں اور خوف اور امید کے ساتھ اسکی طرف آتے ہیں ایسی نگاہ کے ساتھ جو حیا کی وجہ سے نیچی ہوتی ہیں۔اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 131-132)