حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 124
124 اسم اعظم کےساتھ رحمن الرحی تمام صفات عظیمہ کا خلاصہ ہے وَهُنَا سُوَالٌ عُضَالٌ نَّكْتُبُهُ فِي الْكِتَبِ مَعَ الْجَوَابِ لِيُفَكِّرِ فِيْهِ مَنْ كَانَ مِنْ أَوْلِى الاَلْبَابِ وَهُوَ انَّ اللهَ اخْتَارَ مِنْ جَمِيعِ صِفَاتِهِ صِفَتَي الرَّحْمَانِ وَالرَّحِيمِ فِي الْبَسْمَلَةِ وَمَا ذَكَرَ صِفَةٌ أُخرى في هذِهِ الْآيَةِ مَعَ أَنَّ اسْمَهُ الاَعْظَمَ يَسْتَحِقُّ جَمِيعَ مَا هُوَ مِنَ الصِّفَاتِ الْكَامِلَةِ كَمَا هِيَ مَذْكُورَةٌ فِي الصُّحُفِ الْمُطَهَّرَةِ ثُمَّ إِنَّ كَثرَةَ الصِّفَاتِ تَسْتَلْزِمُ كَثْرَةَ الْبَرَكَاتِ عِنْدَ التِّلَاوَةِ فَالْبَسْمَلَهُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِهَذَا الْمَقَامِ وَالْمَرْتَبَةِ وَقَدْ نُدِبَ لَهَا عِنْدَ كُلِّ أَمْرِ ذِي بَالٍ كَمَا جَاءَ فِي الْأَحَادِيثِ النَّبَوِيَّةِ وَإِنَّهَا أَكْثَرُ وِرْدًا عَلَى الْسُنِ أَهْلِ الْمِلَّةِ وَا كَثَرُ تَكْرَارًا فِي كِتَابِ اللهِ ذِي الْعِزَّةِ فَبِأَيِّ حِكْمَةٍ ومَصْلَحَةٍ لَّمْ يُكْتَبُ صِفَاتُ أُخْرَى مَعَ هَذِهِ الْآيَةِ الْمُتَبَرِّكَةِ - فَالْجَوَابُ أَنَّ اللَّهَ أَرَادَ فِي هَذَا الْمَقَامِ أَنْ يَذْكُرَمَعَ اسْمِهِ الْأَعْظَمِ صِفَتَيْنِ هُمَا خُلَاصَةُ جَمِيعِ صِفَاتِهِ الْعَظِيمَةِ عَلَى الْوَجْهِ النَّامِ وَهُمَا الرَّحْمَانُ الرَّحِيمُ - ترجمہ : یہاں ایک مشکل سوال ہے جسے ہم اس جگہ مع جواب لکھتے ہیں تاکہ عقل مند اس میں غور و فکر کرسکیں اور وہ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بسم اللہ میں اپنی تمام صفات میں سے صرف دو صفات الرحمن اور الرحیم کو ہی اختیار کیا ہے اور کسی اور صفت کا اس آیت میں ذکر نہیں کیا۔حالانکہ الہ تعالیٰ کا اسم اعظم (یعنی اللہ) تمام ان صفات کا ملہ کا مستحق ہے جو مقدس صحیفوں میں مذکور ہیں۔پھر کثرت صفات تلاوت کے وقت کثرت برکات کوستلزم ہے۔پس بسم اللہ کی آیت کریمہ اللہ کی کثرت صفات کے بیان کے مقام اور مرتبہ کی زیادہ حقدار اور سزاوار ہے اور حدیث نبوی میں ہرا ہم کام شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحسن قرار دیا گیا ہے، نیز یہ آیت مسلمانوں کی زبانوں پر اکثر جاری رہتی ہے۔اور خدائے عزیز کی کتاب قرآن کریم میں بڑی کثرت سے دہرائی گئی ہے۔تو پھر کس حکمت اور مصلحت کے ماتحت اس مبارک آیت میں خدا تعالیٰ کی دوسری صفات درج نہیں کی گئیں۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ ارادہ فرمایا کہ اپنے اسم اعظم کے ساتھ انہی دوصفات کا ذکر کرے جو اس کی تمام صفات عظیمہ کا پورا پورا خلاصہ ہیں اور وہ دونوں صفات الرحمن اور الرحیم ہیں۔( اعجاز مسیح رخ جلد 18 صفحہ 9896) فَأَرَادَاللَّهُ أَنْ يُعْطِيَهَا مَا اقْتَضَتْهَا وَيُتِمَّ عَلَيْهَا نَعْمَهُ بِجُوْدِهِ الْعَمِيمِ فَتَجَلَّى عَلَيْهَا بِصَفَتَيْهِ الرَّحْمَانِ وَالرَّحِيمِ وَلَا رَيْبَ أَنَّ هَاتَيْنِ الصِّفَتَيْنِ هُمَا الْوُصْلَةُ بَيْنَ الرُّبُوْ بِيَّةِ وَالْعَبُودِيَّةِ وَبِهِمَا يَتِمَّ دَائِرَةُ السُّلُوكِ وَالْمَعَارِنِ الإِنْسَانِيَّةِ - فَكُلُّ صِفَةٍ بَعْدَ هُمَا دَاخِلَةٌ فِي أَنْوَارِهِمَا وَقَطْرَةٌ مِّنْ بِحَارِهِمَا۔پس خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ کہ جو کچھ انسان کی فطرت تقاضا کرتی ہے وہ اسے عطا کر کے اور اپنی وسیع بخشش کے طفیل اس پر اپنی نعمتوں کو پورا کرے۔سو اس نے اپنی انہی دوصفات الرحمن اور الرحیم کے ساتھ اس پر تجلی فرمائی۔اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ دونوں صفات ربوبیت اور عبودیت کے درمیان ایک واسطہ ہیں اور انہی دونوں کے ذریعہ انسانی معرفت اور سلوک کا دائرہ مکمل ہوتا ہے۔ان دونوں کے علاوہ خدا تعالیٰ کی باقی تمام صفات انہی دوصفتوں کے انوار میں شامل ہیں۔اور ان سمندروں کا ایک قطرہ ہیں۔(اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 99-100)