حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page x of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page x

vii بسم الله الـرحـمـن الـرح نحمده و نصلی علی رسوله الكريم و على عبده المسيح الموعود پیش لفظ الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيد رسله و صفوة احبته و خيرته من خلقه و من كل ماذرء وبرء و خاتم انبيائه و فخر اوليائه سيدنا و اما منا و نبينا محمد المصطفے الذي هو شمس الله لتنوير قلوب اهل الارضين و آله و صحبه و كل من آمن و اعتصم بحبل الله و اتقی و جميع عباد الله الصالحين۔( نور الحق۔رخ جلد 8 صفحہ 2 ترجمہ۔تمام تعریفیں خدا کے لئے ثابت ہیں جو تمام عالموں کا پروردگار ہے اور دروداور سلام اسکے نبیوں کے سردار پر جو ا سکے دوستوں میں سے برگزیدہ اور اسکی مخلوق اور ہر ایک پیدائش میں سے پسندیدہ اور خاتم الانبیاء اور فخر اولیا ہے ہمارا سید ہمارا امام ہمارا نبی محمد مصطفے صلعم جو زمین کے باشندوں کے دل روشن کرنے کے لئے خدا کا آفتاب ہے اور سلام اور دروداس کی آل اور اسکے اصحاب اور ہر یک پر جو مومن اور حبل اللہ سے پنجہ مارنیوالا اور متقی ہو اور ایسا ہی خدا کے تمام نیک بندوں پر سلام۔حضرت اقدس کی دعا سے برکت حاصل کرتے ہوئے خاکسارا اپنے محسن اور پیارے خدا کا بے انتہا شکر گزار ہے کہ اس نے یہ توفیق دی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ اسالیب فہم قرآن کو آپ ہی کے الفاظ اور اقتباسات میں مختلف موضوعات کی ترتیب کے مطابق پیش کر سکوں۔حضرت اقدس کے موضوعات قرآن کو سمجھنا اور پھر ان کو موضوعات کے اعتبار سے اپنے اپنے مقام پر مرتب کرنا ایک ایسی خدمت تھی جس کے لئے استعداد قابل اور بے انتہا محنت درکار تھی۔اس لئے اپنی علمی کم مائیگی کو جانتے ہوئے میں بہت خائف رہتا تھا کہ شاید میں نے ایسا کام شروع کیا ہے جو میری قابلیت سے بہت بلند ہے اور شاید میں اس کا حق ادانہ کرسکوں۔مگر اول یہ سمجھ کر کہ قرآن کریم اور اس کے عرفان کے مخاطب عامی لوگ بھی تو ہیں اور یہ کہ استعدادا ایک ایسی قدر ہے جو محنت اور لگن سے بہتر بھی ہو جاتی ہے اور دوسرے درجے پر یہ یقین بھی تھا کہ حضرت اقدس کی تحریر اور تقریر کے خزانوں سے زر و جواہر تلاش کرنے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور ایک سے ایک بہتر ہوگا اس لئے اگران جو ہر شناسوں میں میرا نام بھی آجائے ( خواہ کم درجے کا ہی ہو ) تو بہت خوش نصیبی ہوگی۔ان خیالات اور امیدوں سے تقویت حاصل کر کے خاکسار نے اس شوق کو زندہ رکھا ہے اور محض خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان بے پایاں سے اس قابل ہوا ہوں کہ اس خدمت کو مکمل کر سکوں۔فالحمد اللہ الحمدللہ الحمد للہ علی ذالک۔