تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 83 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 83

۸۳ امت کے یہود اور ان کی سیرت کو بھی دیکھا۔اور اس عمارت میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔یعنی مُنْعَمُ عَلَيْهِمْ - پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے۔اور آخری اینٹ کے ساتھ اس بناء کو کمال تک پہنچا دے۔پس میں وہی اینٹ ہوں۔اور جیسا کہ میٹی بنی اسرائیل کیلئے نشان تھا۔ایسا ہی میں تمہارے لئے اے تہ کارو ایک نشان ہوں۔پس اے غافلو ! توبہ کی طرف جلدی کرو۔اور میں مُنْعَمُ عَلَيْهِم گروه میں سے فردا اکمل کیا گیا ہوں۔اور یہ فخر اور ریا نہیں۔خدا نے جیسا چاہا کیا پس کیا تم خدا (خطبه الهامیه صفحه ۱۱۲ طبع اوّل) کے ساتھ لڑتے ہو۔“ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ اس جگہ نبوت کی عمارت کا ذکر نہیں۔نمر جناب برق صاحب نے اپنے ترجمہ میں اسے از خود نبوت کی عمارت قرار دے کر حضرت بائی سلسلہ احمدیہ کو آخری اینٹ یا معنی آخری نبی قرار دیا ہے۔سراسر مغالطہ ہے کیونکہ اس عمارت سے سورہ فاتحہ میں بیان کردہ پیشگوئی کی عمارت مراد ہے۔چنانچہ اوپر کی عبارت میں فَأَرَادَ اللَّهُ أَن يُتِمَّ التَّبَاءَ ) کہ خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ اس پیشگوئی کو پوری کرے) کے الفاظ میں وہ پیشگوئی مراد ہے۔جو اس عبارت سے پہلے سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں بیان کی گئی ہے۔جسے آپ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔" یہ دو گروہ مغضوب علیہم اور اہل صلیب میں سے ہیں کہ خدا نے فاتحہ میں ان کا ذکر کیا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ آخر زمانہ میں بکثرت ہو جائیں گے اور فساد میں کمال کو پہنچ جائیں گے اس وقت آسمان کا پروردگار تیسرے گروہ کو قائم کرے گا۔اس لئے کہ مشابہت پہلی امت سے پوری ہو جائے۔اور اس لئے بھی کہ دونوں سلسلے ایک دوسرے سے مشابہ ہو جائیں (یعنی پہلا سلسلہ اور دوسر اسلسلہ ) پس وہ وقت یہی وقت ہے اور جو کچھ رحمان نے وعدہ کیا تھاوہی ظاہر ہوا۔“ اس کے بعد وہ عربی عبارت ہے جس کا ذکر معہ ترجمہ ہم پہلے کر چکے ہیں۔