تحقیقِ عارفانہ — Page 59
۵۹ تعالی لوگوں پر نئی شریعت دے کر مامور کرے۔“ پس ان معنوں کے پیش نظر اس حدیث میں النبتون کا الف لام عہد کے لئے ہوا استغراق کے لئے نہیں۔کیونکہ امکانِ نبوت والی حدیثیں بھی اس کے عہدی ہونے پر دلالت کر رہی ہیں۔حدیث چهارم سيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَرْعَمُ أَنَّهُ نَبِيُّ وَأَنَا عَاتَمُ النَّبِيِّينَ لا نَبِيَّ بَعْدِي "۔یہ حدیث بخاری ، ترمذی اور ابو داؤد میں ہے۔جہاں تک حدیث کے راویوں کا تعلق ہے یہ حدیث قابل استناد نہیں۔اسے بخاری نے ابوالیمان سے بطریق شعیب وابو الزناد نقل کیا ہے۔ابو الزناد کے متعلق ربیعہ کا قول ہے ليس بثقة ( میزان الاعتدال جلد ۲ صفحه ۳۳ مطبوعہ حیدر آباد دکن کہ وہ ثقہ راوی نہیں۔ابوالیمان نے یہ روایت شعیب سے ہی لی ہے ابوالیمان کا شعیب سے سماع ہی ثابت نہیں۔چنانچہ میزان الاعتدال جلد ا صفحہ ۲۷۲ پر لکھا ہے۔لَم يَسْمَعُ أبو اليمان من شعیب کہ ابو الیمان نے شعیب سے کوئی حدیث بھی نہیں سنی۔ترندی کے اسناد میں ابو قلابہ اور ثوبان دور اوی نا قابل استناد ہیں۔ابو قلابہ کے متعلق لکھا ہے لیس ابو قلابَةِ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ وَهُوَ۔و عِندَ النَّاسِ مَعْدُودُ فِي البُلِهِ إِنَّهُ مُدَكِسٌ عَمَّنْ لَحِقَهُمْ وَمِمَّنْ لَمْ يَلْحِقُهُمْ (ميزان الاعتدال جلد ۲ صفحه ۳۹ نیز التهذیب التهذیب جلد ۵ صفحہ ۲۲۱) کہ ابو قلابہ فقہاء میں سے نہ تھا۔بلکہ وہ لوگوں کے نزدیک ابلہ (بے سمجھ ) مشہور تھا اور جو اسے ملا اس کے بارہ میں اور جو اسے نہیں ملا اس کے بارے میں بھی تدلیس کرتا تھا۔اس طرح ثوبان کے متعلق آزدی کا قول ہے يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ ( میزان الاعتدال جلد اصفحہ ۱۷۳) ترندی کے