تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 638 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 638

۶۳۸ کا سامان جمع کرے گا۔اور اسی طرح میرا اقرار بركة بعد بَرَكَةٍ کا موجب ہو گا۔اور ہر قسم کی برکات سادی وارضی سے متمتع کرے گا۔یہ مضمون خبر کے مفرد لانے سے تفصیل کے ساتھ ادا نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے اس جگہ خبر کا جمع لانا نا گزیر اور افصح ہے۔ای مفہوم میں قرآن شریف میں برکات اور حسرات کا لفظ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ البقره آیت ۱۶۸ میں كَذَالِكَ يُرِيهُمُ اللهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ اور الاعراف : ۹۷ میں ہے آتا ہے :- وَلَوْ أَنّ أَهْلَ الْقُرى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَتٍ مِّنَ السَّمَاءِ والأرض - گو یہ دونوں مثالیں برکات و حسرات کے بطور خبر کے استعمال کی نہیں۔لیکن ہم نے یہ مثالیں اس لئے دی ہیں کہ ان میں حسرة بعد حسرة اوربركة بعد بركة کا مفہوم ہے۔جو خالی حسرہ اور برکة کے لفظ سے ادا نہیں ہو تا۔کیونکہ خالی حسرة اور بركة کے بطور خبر استعمال ہونے کی صورت میں ایک ہی حسرۃ اور ایک ہی برکة کی طرف ذہن جا سکتا ہے۔اور تعد وحسرة و برکة کی طرف سے غفلت واقع ہو سکتی ہے۔برق صاحب نے کسی نحو کی کتاب میں پڑھا ہو گا کہ مبتداء اور خبر میں وحدت و جمع میں مطابقت ضروری ہے۔ان بیچاروں کو کیا معلوم کہ مصدر کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔اور اُس کی خبر حسب ضرورت مفرد بھی لائی جاسکتی ہے اور جمع بھی۔دیکھئے قرآن کریم میں خود اللہ تعالیٰ نے مصدر کے مبتداء ہونے کی صورت میں اس کی خبر جمع استعمال فرمائی ہے۔جیسا کہ فرمایا : - "الحَج أَشْهُرُ مَّعْلُومت“ (البقره: ۱۹۸) اس جگہ الحج مصدر مبتداء واقع ہوا ہے اور اشهر معلومت خبر ہے۔ذرا سوچئے! شهر واحد ہے یا جمع ؟ سنئے ! اشهر جمع ہے شہر کی جس کے معنے مہینہ ہوتے ہیں :-