تحقیقِ عارفانہ — Page 635
۶۳۵ اس کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے۔اور اپنے رات اور دن میں فکر نہیں کہ آخر پو چھے جائیں گے۔“ مطلب یہ ہے کہ وہ قیامت کے محاسبہ سے غفلت برتتے ہیں۔اور دن اور رات میں کسی وقت نہیں سوچتے کہ ہمارا محاسبہ بھی ہونے والا ہے۔بے شک سوچ بچار میں یہ غفلت خوف محاسبہ کے نہ ہونے پر دال ہے۔جو لوگ محاسبہ کے متعلق سوچ چار سے کام نہ لیں لازما وہ محاسبہ سے ڈرتے بھی نہیں کیونکہ انہیں محاسبہ کا خیال ہی نہیں آتا توڈرمیں کیسے۔پس اس جگہ لا يُفَكَّرُونَ کو نہ ڈرنے کا مفہوم لازم ہے۔لیکن مقصود اس عبارت میں چونکہ محاسبہ سے نہ ڈرنے کی علت بیان کرنا ہے جو عدم فکر (سوچ و بچار کا نہ ہونا) ہے۔اس لئے لا يَخَافُونَ کی جگہ لا يُفكَّرُونَ کے الفاظ استعمال کئے گئے۔پس اس جگہ برق صاحب نے کسی نکتہ چینی سے کام نہیں لیا۔بلکہ صحیح انداز فکر سے محرومی کا ہی ثبوت دیا ہے۔اور انہوں نے "حرف محرمانہ نہیں لکھی بلکہ حرف محرومانہ لکھی ہے۔" 66 ۹ : - وَلَا يُبْعِدُ مِنِّي طَرْفَةَ عَيْنٍ رَّحْمَتُه (خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۱۰ طبع اول) اعتراض طرفه العین کسی کام کی رفتار اور مسرعت ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔مثلا راکٹ آنکھ جھپکنے کی دیر میں سو میل نکل گیا۔قرآن میں درج ہے کہ ایک جن ملکہ سبا کا تخت چشم زدن میں لے آیا۔اس لئے یہاں اس کا استعمال غلط ہے۔“ الجواب (حرف محرمانه صفحه ۴۰۸) طرفة عین کا استعمال اس جگہ غلط نہیں۔بلکہ غلطی برق صاحب کی سمجھ کی