تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 632 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 632

۶۳۲ إِيمَا نِهم هُوَ الَّذِى اَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ المُومِنِينَ لِيَزْدَادُ وَا إِيمَاناً مَعُ (الفتح : ) ترجمہ : یعنی خدا ہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت اتاری تاکہ جو ایمان انہیں پہلے نصیب تھا اس کے ساتھ اور ایمان بھی انہیں نصیب ہو جائے۔دیکھ لیجئے اس آیت میں دلوں پر سکینت نازل ہونے کے لئے فی کا لفظ ہی استعمال کیا گیا ہے۔نہ کہ "علی" گا۔پھر اسی سورۃ کی آیت ۲۷ میں جہاں اشخاص پر سکینت نازل کرنے کا ذکر ہے فرمایا ہے۔فَا نَزَلُ اللهُ سَكِينَةُ عَلَى رَسُولِهِ و عَلَى المُو مِنِينَ 66 پس سکینہ کے ساتھ حضرت اقدس کے زیر بحث فقرہ میں ”فی“ کے استعمال پر برق صاحب کا اعتراض نہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عربی علم ادب میں کم مایہ ہیں۔بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ قرآن شریف سے بھی ناواقف ہیں۔: - فَخَرَجَ النَّصَارَى مِنْ دَيْرِهِمْ - (خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۰۰طبع اول) اعتراض نصاری اپنے گر جاؤں سے نکلے۔گر جاؤں کا ترجمہ دیر نہیں بلکہ دیار ، اوپر ، اور دیورت ہے۔(حرف محرمانه صفحه ۴۰۷) دیر کا لفظ اس جگہ بطور اسم جنس کے استعمال ہوا ہے۔یہ استعمال اسی طرح ہے جس طرح قرآن مجید میں ثُمَّ يُخرِ حُكْم طفل (المومن : ۶۸) ( پھر تمہیں چہ